منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ کے لیے ای ویزا، پاکستانی شہریوں کو بڑی سہولت مل گئی

datetime 25  فروری‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) — پاکستانی شہریوں کے لیے برطانیہ کے سفر سے متعلق ایک اہم سہولت متعارف کرا دی گئی ہے،

جس کے تحت اب وہ ’’ای ویزا‘‘ نظام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اعلامیے کے مطابق سیاحت یا کاروباری مقاصد کے لیے برطانیہ جانے والے افراد کو اب پاسپورٹ پر ویزا اسٹیکر لگوانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ویزا کی منظوری ای میل کے ذریعے موصول ہوگی اور درخواست دہندگان کو ڈیجیٹل ریکارڈ کی صورت میں ای ویزا جاری کیا جائے گا۔ یہ سہولت برطانوی ہائی کمیشن نے فراہم کی ہے، جبکہ ای ویزا کو یو کے ویزا اینڈ امیگریشن کے آن لائن اکاؤنٹ کے ذریعے حاصل کیا جا سکے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے بعد پاسپورٹ واپس لینے کے لیے ویزا سینٹر کا دوبارہ دورہ کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ درخواست گزار ’’شیئر کوڈ‘‘ تیار کر کے کسی بھی بارڈر پر اپنے ویزے کی تصدیق کرا سکیں گے۔ البتہ ویزا کے طریقہ کار، اہلیت یا شرائط میں کوئی رد و بدل نہیں کیا گیا۔

جین میریٹ نے اس پیش رفت کو پاکستانی شہریوں کے لیے ایک بڑی سہولت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے ویزا عمل مزید آسان اور جدید ہو جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…