منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

ایشیا میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک

datetime 20  فروری‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی)بنگلہ دیش نے 2025 میں سیاسی و معاشی ہنگامہ خیزی کا سامنا کیا،

اس کے باوجود اس کی سرمایہ کاری کا جی ڈی پی سے تناسب 22.4 فیصد رہا جو پاکستان کے 13.8 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔پاکستان اب تک مالی سال 2022 کی 15.6 فیصد کی بلند ترین سطح بھی بحال نہیں کر سکا۔ خطے کے دیگر ممالک جیسے بھارت اور ویتنام 30 فیصد سے زائد سرمایہ کاری کی سطح برقرار رکھے ہوئے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایشیا کی بڑی معیشتوں میں پاکستان بدستور سب سے کم سرمایہ کاری والا ملک ہے۔صنعتی رہنمائوں کے مطابق اعلی سطح کی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے قیام کے باوجود بنیادی ساختی رکاوٹیں بدستور موجود ہیں۔اگرچہ حالات میں کچھ بہتری آئی ہے مگر صنعتی منصوبہ شروع کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں سے تقریبا 25 ریگولیٹری اجازت نامے درکار ہوتے ہیں، جس سے تاخیر اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔کاروباری حلقوں کے سینئر عہدیداران نجی طور پر سرمایہ کاری سہولت کونسل کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ایک کاروباری تنظیم کے عہدیدار نے کہا نظم و ضبط انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے مگر یہ نئے خیالات کی حوصلہ شکنی بھی کر سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان اب بھی عالمی سرمایہ کاروں کو روایتی منصوبوں کی پیشکش کر رہا ہے اور زیادہ تر مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز)تک محدود ہے، بجائے اس کے کہ باضابطہ سرمایہ کاری معاہدے حاصل کیے جائیں۔پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (PRIME) کی ریسرچ اکانومسٹ مریم ایوب کے مطابق، پاکستان کی سرمایہ کاری کی شرح خطے سے ساختی طور پر منقطع ہے۔

دیگر معیشتیں جھٹکوں کے باوجود کہیں زیادہ سرمایہ کاری برقرار رکھتی ہیں، جو عارضی نہیں بلکہ گہری داخلی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی سرمایہ کاری جی ڈی پی تناسب مالی سال 2022 میں 15.6 فیصد سے کم ہو کر مالی سال 2024 میں 13.1 فیصد تک آ گیا، اور مالی سال 2025 میں معمولی اضافے کے بعد 13.8 فیصد پر پہنچا۔اس دوران بھارت نے 32 سے 35 فیصد، ویتنام نے 30 سے 33 فیصد اور بنگلہ دیش نے تاریخی طور پر تقریبا 30 فیصد کی سطح برقرار رکھی۔ماہرین معاشیات کے مطابق 15 فیصد سے کم سرمایہ کاری کی سطح پاکستان کی ترقی کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہے۔ بینکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 کے دوران حکومتی قرض گیری نے نجی شعبے کے مقابلے میں نمایاں برتری حاصل کی۔حکومت کی ماہانہ قرض گیری 30 سے 36 کھرب روپے کے درمیان رہی، جبکہ نجی شعبے کو 9.5 سے 10.9 کھرب روپے تک محدود کریڈٹ ملا۔کئی مواقع پر حکومتی قرض نجی قرض سے تین گنا زیادہ رہا۔مریم ایوب کے مطابق بینک حکومت کو قرض دینا ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ کم خطرے اور منافع بخش ہوتا ہے، جس سے بینک تو مستحکم رہتے ہیں مگر صنعت کو مالی وسائل نہیں ملتے۔

برآمدات اکتوبر میں 2.85 ارب ڈالر سے کم ہو کر دسمبر میں 2.32 ارب ڈالر رہ گئیں، مالی سال 2025 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) 2.49 ارب ڈالر رہی، جو مالی سال 2022 کے 1.9 ارب ڈالر سے کچھ بہتر ہے، مگر اسی عرصے میں منافع کی بیرونِ ملک منتقلی 1.79 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جس سے خالص سرمائے میں اضافہ محدود رہا۔جی ڈی پی کے محض 0.6 تا 0.7 فیصد کے برابر ایف ڈی آئی پاکستان کی مجموعی سرمایہ کاری میں معمولی کردار ادا کر رہی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر سرمایہ کاری جی ڈی پی کے 15 فیصد سے کم رہی تو پاکستان کی پائیدار شرح نمو 3 سے 4 فیصد تک محدود رہے گی، جو خطے کے مقابلے میں جمود کے مترادف ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…