کراچی(این این آئی)شہر قائد کے علاقے گل رعنا کالونی سولجر بازار میں ایک گھریلو عمارت میں گیس سلینڈر دھماکے کے نتیجے میں چھت گر گئی،
جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد16ہوگئی ہے جبکہ 13زخمی ہیں جن کو طبی امداد دی جارہی ہے ۔ریسکیو حکام کے مطابق حادثہ گلی نمبر5 کے قریب آغا خان اسکول کے علاقے میں پیش آیا۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی ادارے فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے سولجر بازار میں صبح 4 بجے کے قریب عمارت میں گیس لیکج کے باعث دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں عمارت کا کچھ حصہ گرگیا، حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقے کوگھیرے میں لیکر سکیورٹی سخت کردی اور ریسکیو اداروں نے سرچ آپریشن شروع کردیا۔ریسکیو حکام نے بتایاکہ عمارت تین منزلہ ہے اور ہرفلور پر ایک کمرہ قائم ہے، تنگ گلیوں کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک16لاشیں نکالی جاچکی ہیں جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں جبکہ13 زخمی ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکا سحری کے وقت ہوا، جاں بحق ہونے والے16افراد میں 4 بچے اور 3 خواتین بھی شامل ہیں۔
جاں بحق افراد کی شناخت 60سالہ محمد شاہد ولد غلام رسول، 50 سالہ وکیہ ولد چھوٹا، 14 سالہ بلاول ولد وکیہ، 10 سالہ پدھرا دختر وکیہ، 6 سالہ عدنان ولد وکیہ، 7 سالہ ریاض ولد وکیہ، 25 سالہ تسلیم دختر وکیہ، 6 سالہ زین العابدین ولد کامران، 40 سالہ کامران ولد نذر محمد، 12 سالہ سنہان ولد وکیہ، 13 سالہ کوثر دختر انور علی، 55 سالہ آمنہ زوجہ وکیہ، 18 سالہ جنید ولد محمد انورکے ناموں سے ہوئی ہے۔ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ افسر ڈاکٹر عابد جلال الدین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ عمارت تین منزلہ تھی اور ہر منزل پر ایک کمرہ قائم تھا۔ دھماکے کے بعد عمارت کا بڑا حصہ زمین بوس ہو گیا جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔حکام نے بتایاکہ علاقے کی گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے بھاری مشینری کو موقع پر پہنچانے میں دشواری کا سامنا ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق اب تک ملبے سے 16 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں ایک خاتون اور ایک 10 سالہ بچی بھی شامل ہے۔ بچی کی شناخت نازیہ کے نام سے ہوئی ہے۔اس کے علاوہ 14 زخمیوں کو فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے ایک اور بچی کو زندہ نکالنے میں کامیابی حاصل کی جسے فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ڈی جی ریسکیو 1122بریگیڈیر واجد نے بتایا کہ گیس دھماکا عمارت کی پہلی منزل پر ہوا، دھماکا گیس سلنڈر یا گیس کھینچنے والی مشین سے ہوا۔ڈی جی نے کہا کہ مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے جس کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے، چھوٹی عمارت کے لیے ہمارے پاس خاص آلہ ہوتاہے، آلے کی مدد سے لوہے کو کاٹ کر ملبہ ہٹایا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ آس پاس کی عمارتیں بھی لرز گئیں، اور علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔اے ایس پی جمشید عاشر کے مطابق واقعہ چار بجکر 15 منٹ پہ پیش آیا۔
بلڈنگ گارڈر پر بنی تھی۔ عمارت گرنے کی وجہ تلاش کی جارہی ہیںچیف آپریٹنگ آفیسر ڈاکٹر عابد نے بتایا کہ گیس بلاسٹ پہلی منزل پر ہوا۔ سحری کے وقت دھماکہ ہوا۔ دھماکہ گیس لیکیج کے سبب ہوا ہے۔ گرائونڈ پلس دو منزلوں پر چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں۔جگہ بہت کم ہونے میں آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرناپڑا۔یہ لیگل عمارت نہیں یہ ایک ایک کمرہ کی عمارت ہے۔ عمارت گرنے سے آس پاس کی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ملبے میں مزید ایک سے دو افراد کی موجودگی کی اطلاع ہے۔ عمارت کے ملبے سے دس سالہ سجاد کی بھی لاش نکال لی گئی ہے۔علاوہ ازیں ملبے سے دو خواتین کی لاشیں نکال لی گئیں۔ ایک خاتون کی شناخت 44 سالہ زینب کے نام سے کی گئی جبکہ دوسری 17 سالہ افشاں کے نام سے ہوئی۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق عمارت کے گرائونڈ فلور پر گیس سلنڈر لیک ہونے کے باعث دھماکہ ہوا، جس کی شدت سے عمارت کا بڑا حصہ زمین بوس ہوگیا۔ڈپٹی کمشنر ایسٹ نصر اللہ عباسی کے مطابق عمارت کے ملبے میں مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، دھماکے کی شدت سے عمارت متاثر ہوئی اور زمین بوس ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ دھماکے سے تباہ ہونے والی عمارت 2 منزلہ ہے، تنگ گلیوں کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔علاوہ ازیں ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا گیس لیکیج کا ہے، کیمیکل ایگزیمین کے بعد ہی دھماکے کی اصل نوعیت کا تعین ہو سکے گا، واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ محکمہ بتائے گا کہ عمارت قانونی تھی یا غیر قانونی، تعین کر کے واقعے کے ذمے داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ڈی آئی جی ایسٹ نے کہاکہ ملبے سے 14 افراد کی لاشوں کو نکالا جاچکا ہے۔ ملبے میں ایک لاش دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں گیں۔ متعلقہ محکمہ بتائے گا کہ عمارت قانونی تھی یا غیر قانونی۔ تعین کرکے واقعہ کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیم نے واقعے کے مقام کا دورہ کیا، جہاں ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دھماکہ گیس لیکیج کے باعث پیش آیا جبکہ گیس سلنڈر نہیں پھٹا۔بم ڈسپوزل اسکواڈ ایسٹ کے انچارج عابد فاروق کے مطابق متاثرہ گھر کے باورچی خانے میں گیس کی فٹنگ ناقص تھی اور مختلف جگہوں پر گیس کی سپلائی کے لیے پلاسٹک کے پائپ استعمال کیے گئے تھے، جس کے باعث لیکیج کا امکان بڑھ گیا۔انہوں نے بتایا کہ پلاسٹک پائپ اور جوڑوں کی وجہ سے گیس کا اخراج زیادہ ہوتا ہے، جبکہ گھر میں گیس کھینچنے والی مشینیں بھی نصب تھیں۔عابد فاروق کے مطابق مقامی افراد نے بتایا کہ علاقے میں کئی روز سے گیس کی سپلائی نہیں آرہی تھی، تاہم گزشتہ رات اچانک گیس کی سپلائی تیز ہوگئی۔انہوں نے کہاکہ ممکنہ طور پر گیس کی چابی کھلی رہنے اور بعد ازاں شارٹ سرکٹ یا ماچس جلانے کے باعث دھماکہ ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں پیش آنے والے زیادہ تر واقعات گیس لیکج کے باعث ہوتے ہیں، نہ کہ گیس سلنڈر دھماکوں کے سبب۔ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے سولجر بازار میں گیس لیکج کے باعث عمارت میں دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متعلقہ اداروں کو ملبے تلے دبے افراد کو فوری نکالنے کی ہدایت دی۔
وزیراعلی نے امدادی کارروائیوں کو تیز کرنے کی بھی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں اور متاثرہ خاندانوں سے ہر طرح سے تعاون کیا جائے۔مراد علی شاہ نے کمشنر کراچی کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ سولجر بازار میں دھماکے کی وجوہات کیا ہیں۔دوسری جانب سینئر وزیر شرجیل میمن نے بھی واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا ہے۔وزیرداخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعہ پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریسیکیو ورک سمیت دیگر امدادی کاموں کی تفصیلات ایس ایس پی ایسٹ سے طلب کرلی ہیں۔انہوں نے ہدایت دی کہ ریسکیو ورک کو مذید تیز کیا جائے۔زخمی شہریوں کی طبی امداد کے لیئے اسپتال انتظامیہ سے رابطہ رکھا جائے اورجملہ پیش رفت اور امدادی کاموں کی تفصیلات سے آگاہ رکھا جائے۔



















































