جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کر دی گئی،رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات

datetime 24  جنوری‬‮  2026 |

کراچی (این این آئی)سانحہ گل پلازہ کی رپورٹ سندھ حکومت کو پیش کر دی گئی ہے، جس میںکہا گیا ہے کہ شاپنگ سینٹر کی زمین کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کی ملکیت تھی۔سندھ حکومت کو پیش کی گئی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق یہ زمین کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی)کی ملکیت تھی۔رپورٹ کے مطابق گل پلازا کی زمین 1883 میں ٹرام سروس کیلیے ایسٹ انڈیا کمپنی کو 99 سالہ لیز پر دی گئی۔رپورٹ کیے گئے انکشاف کے مطابق جینیکا کمپنی نے 1979 سے زمین پر نظریں رکھنا شروع کیں اور 1983 میں زمین کی 99 سالہ لیز ختم ہوگئی ہے۔رپورٹ کے مطابق لیز ختم ہونے سے 1 ماہ قبل زمین جینیکا نامی گروپ نے خریدلی، جماعت اسلامی کے میئر عبدالستار افغانی کے دور میں زمین کا تبادلہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے میئر عبدالستار افغانی 1979 سے 1987 تک میئر رہے، جن کے دور میں لیز ختم ہونے کے باوجود گل پلاز ا عمارت کی تعمیر شروع ہوئیں۔رپورٹ کے مطابق بغیر لیز گل پلازا کی تعمیر ات 7 سال تک جاری رہیں، اس کی زمین ایم کیو ایم کے میئر فاروق ستار کے دور میں لیز پر دی گئی۔ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گل پلازا کے لیے کے ایم سی کی زمین ایم کیو ایم کے میئر فاروق ستار کے دور میں 3 نومبر 1991 کو باضابطہ طور پر الاٹ کی گئی۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ گل پلازا کی لیز پر سابق میئرکراچی فاروق ستار کے دستخط موجود ہیں، کے ایم سی کی زمین گل پلازا کیلیے صرف 3 روپے فی گز کرائے پر لیز کی گئی۔رپورٹ کے مطابق 2003 میں گل پلازا کے اضافی فلور ریگولرائز کئے گئے، اضافی فلور کی منظوری جماعت اسلامی کے میئر نعمت اللہ خان کے دور میں دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…