اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اگر کوئی شخص لمبی، متحرک اور صحت مند زندگی گزارنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ضروری نہیں کہ مشکل طریقے اپنائے جائیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں مختلف جسمانی سرگرمیوں کو شامل کرنا ہی کافی ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک جامع طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی کی اس طویل المدتی تحقیق میں ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد افراد کو شامل کیا گیا، جن کی صحت اور طرزِ زندگی کا جائزہ 30 سال سے زیادہ عرصے تک لیا گیا۔ اس دوران ہر دو سال بعد شرکاء کی ذاتی معلومات، طبی پس منظر اور روزمرہ عادات سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا رہا۔تحقیق کے دوران یہ بھی جانچا گیا کہ آیا یہ افراد باقاعدگی سے چہل قدمی، دوڑ، جاگنگ، سیڑھیاں چڑھنے، سائیکل چلانے یا ٹینس اور اسکواش جیسے کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں یا نہیں۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جو افراد مختلف اقسام کی جسمانی سرگرمیوں کو اپنی زندگی کا حصہ بناتے ہیں، ان میں کسی بھی وجہ سے قبل از وقت موت کا خدشہ تقریباً 20 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔ صرف روزانہ چہل قدمی کرنے سے ہی مجموعی طور پر موت کا خطرہ 17 فیصد کم دیکھا گیا۔اسی طرح ٹینس، اسکواش اور دیگر کھیل کھیلنے والوں میں یہ خطرہ 15 فیصد تک گھٹ گیا، جبکہ دوڑنے یا ویٹ لفٹنگ جیسی ورزشوں سے 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
جاگنگ کرنے والوں میں یہ شرح 11 فیصد اور سائیکل چلانے والوں میں 4 فیصد کم پائی گئی۔ سیڑھیاں چڑھنے کی عادت اپنانے سے بھی موت کے خطرے میں 10 فیصد تک کمی دیکھی گئی۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جو افراد ایک سے زیادہ جسمانی سرگرمیوں کو باقاعدگی سے انجام دیتے ہیں، ان میں مجموعی طور پر قبل از وقت موت کا امکان 19 فیصد کم ہو جاتا ہے، جبکہ دل کے امراض، کینسر، سانس کی بیماریوں اور دیگر وجوہات سے اموات کا خطرہ 13 سے 41 فیصد تک گھٹ سکتا ہے۔محققین نے اس بات کی وضاحت بھی کی کہ تحقیق کی کچھ حدود ہیں، کیونکہ اس میں شرکاء کے فراہم کردہ ڈیٹا پر انحصار کیا گیا اور براہِ راست وجہ اور نتیجے کا تعلق ثابت نہیں کیا جا سکا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ نتائج اس بات کو مضبوط کرتے ہیں کہ مختلف جسمانی سرگرمیوں کو طویل عرصے تک اپنانا عمر میں اضافے اور بہتر صحت سے جڑا ہوا ہے۔اس تحقیق کے نتائج معروف طبی جریدے ’’بی ایم جے میڈیسن‘‘ میں شائع کیے گئے ہیں۔














































