مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران کے آخری شاہ کے محلات دیکھنے کا موقع ملا تھا‘ یہ دونوں شہر کی نارتھ سائیڈ پر واقع ہیں‘ شہر کی نارتھ سائیڈ تہران کا مہنگا ترین علاقہ ہے‘ زیادہ تر سفارت خانے‘ عالمی مشنز اور ارب پتی ایرانیوں کے گھر اسی علاقے میں ہیں‘ اس مہنگے ترین سیکٹر کی ایک تنگ سی گلی میں امام خمینی کا تین مرلے کا گھر تھا‘ یہ گلی جماران سٹریٹ کہلاتی ہے اور اس میں بمشکل گاڑی داخل ہوتی ہے‘ گلی کی دونوں سائیڈز پر گارڈز کی چوکیاں ہیں اور درمیان میں وہ کمپائونڈ ہے جس میں امام خمینی نے 10 سال گزارے ‘ کمپائونڈ کے لوہے کے گیٹ کے اندر صاف پانی کی نالی بہتی ہے‘ عمارت کی پشت پر چشمہ ہے اور یہ نالی اس چشمے کے پانی کو عمارت کے اندر سے گزار کر گلی کی دوسری طرف لے جاتی ہے‘ کمپائونڈ کے اندر دائیں سائیڈ پر اونچی دیوار جب کہ بائیں جانب ہاشمی رفسنجانی اور امام خمینی کے گھر ہیں‘آپ یہ جان کر حیران ہوں گے امام خمینی کشمیری تھے‘
ان کے آبائو اجدادکشمیر سے تعلق رکھتے تھے‘ ان کے پڑدادا سید احمد موسیٰ اپنے نام کے ساتھ ہندی لکھتے تھے‘ وہ 1930ء میں لکھنؤ سے نکلے اور 1939ء میں ایران کے شہر خمین میں آباد ہو گئے‘ خاندان امام خمینی تک ہندی کہلاتا تھا‘ امام خمینی خود بھی ہندی کا قلمی نام استعمال کرتے تھے‘ امام 1900ء میں خمین میں پیدا ہوئے‘ ایران کی 90فیصد آبادی اپنے ناموں کے ساتھ اپنے شہر کا نام لکھتی ہے‘ امام خمینی کے نام کے ساتھ خمینی ان کے شہر خمین کی وجہ سے تھا جب کہ ان کا اصل نام روح اللہ تھا‘ ان کی ابتدائی تعلیم خمین میں ہوئی‘ خاندان مذہبی تھا لہٰذا یہ مذہبی تعلیم حاصل کرتے ہوئے قم پہنچ گئے اور وہاں سے اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں‘ اہل تشیع کے علمی اور روحانی سلسلے کا آخری عہدہ آیت اللہ ہوتا ہے‘ یہ آیت اللہ بروجردی کے بعد آیت اللہ ہو گئے‘ شاہ کے دور میں امام سینہ تان کر شاہ کے مظالم پر تنقید کرتے تھے جس پر شاہ نے ان پر پابندی لگا دی مگر یہ بولتے رہے یہاں تک کہ 1963ء میں انہیں گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے‘ شاہ نے ہجوم پر گولی چلا دی‘ اس میں 100لوگ شہید ہو گئے مگر اس کے باوجود مظاہرے جاری رہے‘ آخر میں عوام پر ٹینک چڑھا دیے مگر احتجاج نہیں رکا لہٰذا شاہ نے مجبور ہو کر 1964ء میں امام کو جلاوطن کر دیا‘ یہ پہلے ترکی گئے‘ وہاں سات ماہ قیام کیا اور اس کے بعد عراق میں نجف اشرف چلے گئے‘ یہ وہاں 13سال رہے‘ 1978ء میں عراقی حکومت نے شاہ کی درخواست پر انہیں عراق سے نکال دیا‘ یہ کویت چلے گئے مگر کویتی حکومت نے انہیں داخلے کی اجازت نہیں دی لہٰذا یہ فرانس جانے پر مجبور ہوگئے‘ یہ چارماہ فرانس میں رہے‘ اس دوران پورا ایران ابل کر سڑکوں پر آ گیا اور شاہ کی شاہی عملاً ختم ہو گئی‘ شاہ ایران 16 جنوری 1979ء کو تہران سے بھاگ گیا جس کے بعد یکم فروری 1979ء کو آیت اللہ روح اللہ خمینی تہران کے مہرآباد ائیرپورٹ پر اترے اور پورے ملک نے باہرنکل کر ان کا استقبال کیا اور یوں ایران میں اسلامی انقلاب آ گیا۔
امام خمینی ایران کے انقلابی لیڈر تھے‘ یہ بابائے قوم بھی تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے سادہ زندگی گزاری‘ وہ انتقال تک تین مرلے کے کرائے کے مکان میں رہے اور آخری وقت تک اس کا کرایہ دیا‘مجھے 2024ء میں امام خمینی کا گھر دیکھنے کا اتفاق ہوا‘وہ گھر بہت چھوٹا اور غریبانہ تھا‘ صحن دس بائی چودہ فٹ تھا جس پر انگور کی بیلوں نے سایہ کر رکھا تھا‘ صحن سے سیڑھیاں اوپر جاتی تھیں جن کے بعد امام کا لائونج آ جاتا تھا‘ یہ کسی بھی طرح دس فٹ سے بڑا نہیں تھا‘ لائونج میں پرانا ٹو سیٹر صوفہ اور لکڑی کی تپائی پڑی تھی‘ ساتھ ہی ان کا بیڈ روم تھا جس کا سائز بارہ فٹ تھا اور اس میں ان کا سنگل بیڈ اور چھوٹی سی رائٹنگ ٹیبل تھی‘ دونوں کی مالیت چند ہزار روپے سے زیادہ نہیں تھی‘ ساتھ ایک خالی کمرہ تھا جس میں قالین کے علاوہ کوئی فرنیچر نہیں تھا‘ یہ گھر کی سیٹنگ تھی اور اس کے پیچھے تیسرا کمرہ تھا جس میں خواتین رہتی تھیں اور بس‘ امام خمینی نے زندگی کے آخری دس سال اسی گھر میں گزارے ‘ ان کی حسینیہ (امام بار گاہ) گھر کے بالکل سامنے تھی‘ امام ہر جمعے کے دن اسی میں خطاب کرتے تھے‘ حکومت نے اس کے نیچے بیسمنٹ میں ان کا میوزیم بنا دیا ہے‘ اس میں امام کی زندگی کے مختلف ادوار کی تصویریںاور استعمال کی اشیاء رکھی ہیں‘
ان اشیاء میں تاج کمپنی راولپنڈی کا شائع کردہ قرآن مجید کا ایک نسخہ بھی شامل ہے‘ یہ انہیں جنرل ضیاء الحق نے پیش کیا تھا‘ امام مختلف ریاستوں کے سربراہوں اور وزراء سے اسی گھر میں ملاقات کرتے تھے‘ وہ صوفے پر مہمان کے ساتھ بیٹھ جاتے تھے جب کہ سٹاف کو نیچے صحن میں کھڑا ہونا پڑتا تھا‘ ایران میں لوگ گھروں میں صفائی اور کھانا پکانے کے لیے ملازم نہیں رکھتے‘ امام خمینی کے گھر میں بھی سویپر اور خانساماں نہیں تھا‘ امام اور ان کی اہلیہ خود صفائی کرتی تھیں‘ کھانا بھی ان کی اہلیہ پکاتی تھیں اور اگر کبھی بیگم صاحبہ کی کوئی سہیلی یا مہمان آ جاتا تھا تو امام خود چائے بنا کر سرو کرتے تھے ‘ یہ معمول ان کے آخر تک قائم رہا‘ ان کا علاج بھی اسی کمپائونڈ کے عام سے ہسپتال میں ہوا تھا تاہم حکومت نے دیوار توڑ کر ان کے لیے خصوصی دروازہ نکال دیا تھا‘ یہ دروازہ آج تک موجود ہے‘ مجھے امام کے میوزیم میں بھی جانے کا اتفاق ہوا‘ ان کے استعمال کی چیزیں کم‘ سستی اور عام سی تھیں‘ ان میں کوئی قیمتی چیز شامل نہیں تھی‘ یہ سب کچھ دیکھ کر بڑی ٹینشن ہوئی‘ ہم اگر پاکستانی حکمرانوں کا لائف سٹائل دیکھیں اور اس کے بعد اس امام خمینی کی رہائش گاہ اور طرز رہائش دیکھیں جس نے پوری مسلم دنیا کی سوچ بدل کر رکھ دی‘ جو آج بھی دنیا کے بااثر ترین لوگوں میں شمار ہوتے ہیں تو ٹینشن بجا ہے‘ کاش ہمارے حکمران ایک بار امام خمینی کے گھر کا چکر لگا لیں‘ شاید انہیں اسی طرح شرم آ جائے۔
مجھے امام خمینی کے مقبرے پر بھی دو مرتبہ جانے کا اتفاق ہوا‘یہ نئے ائیرپورٹ کے قریب ہے‘ میں2024ء میں قم جاتے ہوئے راستے میں مقبرے پر رکا تھا‘ یہ بڑی‘ وسیع اور شان دار عمارت ہے اور اس پر اربوں روپے خرچ ہوئے ہیں‘ اس کی پارکنگ اور لانز وسیع ہیں جب کہ اس کے ہال میں لاکھ کے قریب لوگ بیٹھ سکتے ہیں‘ مزار درمیان میں ہے اور اس کے دائیں بائیں فرش کی سطح پر امام کے رشتے داروں اور اہلیہ کی قبریں ہیں‘ یہ مزار شہداء کے قبرستان میں بنایا گیا تھا چناں چہ احاطے کے باہر انقلاب اور عراق جنگ کے شہداء کی قبریں ہیں‘ امام خمینی نے 1979ء میں فرانس سے واپسی پر اسی قبرستان میں قوم سے اپنا پہلا خطاب کیا تھا اور امام کو ان کی خواہش پر یہاں دفن کیا گیا تھا‘ امام خمینی کا گھر اور مقبرہ دیکھا جائے تو دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے‘ ایک سائیڈ پر محل ہے اور دوسری سائیڈ پر کٹیا‘ انسان کس کی تعریف کرے؟ یہ فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے۔
مجھے دوسری مرتبہ 25 دسمبر 2025ء کو روضے پر جانے کا موقع ملا‘ ہم 22 لوگ تھے‘ ہم نے ائیرپورٹ پر اتر کر فائیو سٹار ہوٹل میں چلو کباب کا لنچ کیا اور امام کے روضے پر پہنچ گئے‘ اس دن رش نہیں تھا‘ روضے کی وسعت نے ہمارے گروپ کو حیران اور پریشان کر دیا‘روضے کی پارکنگ اور فٹ پاتھ پر خیمے لگے تھے‘ گائیڈ حمید نے بتایا ہوم لیس لوگ اور سیاح یہاں خیمے لگا کر رہتے ہیں‘ حکومت اس پر کوئی اعتراض نہیںکرتی‘ ان لوگوں کو کھانا اور واش روم کی سہولت روضے کی انتظامیہ فراہم کرتی ہے‘ امام کے روضے پر سونے کے پانی سے آیات لکھی ہیں‘ یہ خوب صورت لگتی ہیں لیکن امام کے لائف سٹائل سے مطابقت نہیں رکھتیں‘ روضے کی سیکورٹی پاس داران کے ہاتھ میں ہے اور یہ کڑی تلاشی کے بعد زائرین کو اندر جانے کی اجازت دیتے ہیں‘ خواتین اور مردوں کے داخلے کے دروازے الگ الگ ہیں‘ خواتین کے لیے داخلے سے قبل عبایا اور سکارف لازم ہے اور یہ دونوں چیزیں روضے کے گیٹ سے مل جاتی ہیں۔(جاری ہے)















































