بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

سانحہ گل پلازہ پر کراچی کی فضا سوگوار، 26 لاشوں میں 20 کی شناخت، 83 لاپتا رپورٹ

datetime 20  جنوری‬‮  2026 |

کراچی(این این آئی) سانحہ گل پلازہ پر کراچی کی فضا منگل کو بھی سوگواررہی، عمارت میں سے ملنے والی 26 لاشوں میں 20 کی شناخت ہو گئی ہے جب کہ اب تک 83 لاپتا رپورٹ ہوئے ہیں۔ریسکیو حکام کے مطابق گل پلازہ کے ملبے سے انسانی اعضا بھی ملے ہیں، ڈپٹی کمشنر سائوتھ کے مطابق بیس لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے، اور ناقابل شناخت لاشیں ایدھی سرد خانے منتقل کر دی گئی ہیں۔لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے کلیکشن شروع ہو گیا ہے، 18 افراد کے ورثا نے ڈی این اے سیمپل جمع کرا دیے۔ گل پلازہ کے ملبے پر درجنوں شہری اشکبار ہیں، اور اپنے پیاروں کے لیے اب بھی کسی معجزے کے انتظار میں ہیں۔

جائے حادثہ پر اپنے پیاروں کے لیے تڑپتے لوگ کرین کے آگے بھی آئے، اور ملبہ اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی، انہوں نے کہاکہ پہلے لاشیں نکالیں، ریسکیو ٹیمیں عقبی راستے سے گل پلازہ میں اندر داخل ہوئیں، اور ہیوی مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹا کر راستہ بنایا جا رہا ہے۔گل پلازہ کے برابر والی عمارت کے دو پلر بھی ٹوٹ گئے ہیں، اور عمارت کا ایک حصہ گرنے کا خطرہ ہے، پلازہ کی چھت پر پارکنگ سے گاڑیاں اتارنے کا سلسلہ جاری ہے، کرین کی مدد سے 17 گاڑیاں، 12 موٹر سائیکلیں اور ایک رکشہ اتار لیا گیا ہے، گل پلازہ کی چھت پر رکھے چاروں جنریٹرز بھی کرین کی مدد سے اتار لیے گئے ہیں۔میئر کراچی مرتضی وہاب نے رات گئے گل پلازہ کا دورہ کیا، اور میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تمام لاپتہ افراد کے ملنے تک ریسکیو آپریشن مکمل نہیں ہوگا، ادارے ریسکیو آپریشن کے لیے موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…