منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پی این ایس سی کی بہتری کا منصوبہ، غیرملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ 6ارب ڈالر ادائیگی کا انکشاف

datetime 30  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)حکومت نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن(پی این ایس سی)کی بحالی اور بہتری کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ غیرملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ کرایے کی مد میں 6ارب ڈالر کی ادائیگی کی جاتی ہے۔میڈیارپورٹ کے مطابق اس وقت پی این ایس سی کے پاس صرف 10بحری جہاز ہیں جو ملکی تجارتی سامان کا محض 11فیصد حصہ منتقل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کو غیرملکی شپنگ کمپنیوں کو سالانہ تقریباً 6ارب امریکی ڈالر کا زرمبادلہ بطور کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے اور اس وقت ملک کی تقریباً 90فیصد درآمدات و برآمدات غیر ملکی بحری جہازوں کے ذریعے انجام دی جا رہی ہیں۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ پی این ایس سی کا ایک سنگین چیلنج پرانی ساخت کے جہاز ہیں، بہت سے جہاز اپنی آپریشنل مدت کے اختتام کے قریب ہیں، جس کی وجہ سے 2030کے بعد انہیں منافع بخش طریقے سے چلانا مشکل ہو جائے گا اور دوسری طرف بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او)کی جانب سے کاربن کے اخراج میں کمی کے نئے ریگولیٹری نظام نے اس صورت حال کو مزید دشوار بنا دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ان تمام کوششوں کا اصل مقصد پی این ایس سی کی استعداد کار میں اضافہ کرنا ہے تاکہ غیر ملکی کمپنیوں کو ڈالر کی صورت میں ادا کیے جانے والے قومی مال برداری کے اخراجات کو کم سے کم کیا جا سکے۔مزید بتایا گیا کہ شپنگ کی صنعت میں ترقی کی وسیع گنجائش کے باوجود نجی آپریٹرز کی عدم موجودگی مارکیٹ کی فعالیت اور تیزی میں رکاوٹ کا باعث ہے تاہم این ایل سی کے کاروبار میں شامل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے تاکہ 2030تک قومی کارگو اٹھانے کی صلاحیت بڑھائی جا سکے اور غیر ملکی جہازوں پر انحصار ختم کیا جا سکے۔حکومت کے کاروباری منصوبہ 2026-2030کے مطابق اس اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت اگلے 5سال میں پی این ایس سی کے فعال جہازوں کی تعداد 54تک پہنچ جائے گی۔پی این ایس سی کے جہازوں کی تعداد میں اضافے سے ہونے والے متوقع فوائد کے بارے میں بتایا گیا کہ اس منصوبے سے حکومت اور پی این ایس سی کا سمندری مال برداری کا حصہ 5فیصد سے بڑھ کر 56فیصد (162ملین ڈالر سے 1785ملین ڈالر) تک پہنچ جائے گا۔

اسی طرح اس اقدام کے ذریعے پی این ایس سی کے تمام پرانے جہازوں کی 100فیصد تبدیلی اور نئے جہازوں کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی اور اس منصوبے کے ذریعے پی این ایس سی کے پاس موجود سرمایے کا بہترین اور موزوں ترین استعمال ممکن ہو سکے گا۔حکومت کے مطابق ادارے کی ازسرنو تشکیل کیلئے عالمی معیار کے مالیاتی اور قانونی مشیر مقرر کیے جائیں گے تاکہ پی این ایس سی کو ایک جدید، چست اور پیشہ ورانہ نظم و نسق کا حامل ادارہ بنایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…