پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

کرکٹ کی تاریخ کا انوکھا واقعہ، گیند کو 2 بار مارنے پر بلے باز آؤٹ

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

منی پور (این این آئی)بھارتی ریاست منی پور کے شہر سورت میں رانجی ٹرافی پلیٹ لیگ میچ میں بلے باز لامابام اجے سنگھ کرکٹ کی تاریخ میں انوکھے طریقے سے آؤٹ ہونے والے بیٹر بن گئے، وہ گیند کو دو بار مارنے پر آؤٹ قرار دیے گئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی بلے باز لامابام اجے سنگھ نے باؤلر آرین بورا کی گیند کا دفاع کیا تاہم گیند ہلکی رفتار سے واپس اسٹمپ کی طرف جارہی تھی جسے بیٹر نے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے بیٹ سے روکا۔گراؤنڈ میں موجود عینی شاہدین کے مطابق گیند دوسری بار بیٹ سے لگنے کے وقت واقعی اسٹمپ کی طرف جا رہی تھی اور ایسے میں وکٹ بچانے کے لیے دوسرا شاٹ قانون کے مطابق جائز ہوتا ہے، مگر امپائر کے فیصلے پر بلے باز سمیت کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ایک آفیشل کے مطابق بلے باز بیند کو پیڈ سے بھی روک سکتا تھا تاہم اس نے بیٹ استعمال کیا اور اسی لمحے امپائر دھرمیندر بھاردواج نے اسے ‘ہٹ دی بال ٹوائس’ پر آؤٹ قرار دیا۔

ایم سی سی قوانین کی شق 34.1.1 کے مطابق اگر گیند بیٹر کے جسم یا بیٹ کے کسی حصے سے ٹکرائے، اور پھر فیلڈر کے چھونے سے پہلے بلے باز جان بوجھ کر بیٹ یا جسم کے کسی حصے (ہاتھ کے علاوہ جس میں بلا نہ ہو) سے گیند کو دوسری مرتبہ مارتا ہے تو اسے ‘ہٹ دی بال ٹوائس’ پر آؤٹ قرار دیا جائے گا، البتہ دوسری شاٹ صرف وکٹ بچانے کے لیے ماری گئی ہو تو وہ آؤٹ نہیں ہوتا۔رانجی ٹرافی میں آخری بار اس طرح آؤٹ کا انوکھا واقعہ 06ـ2005 میں پیش آیا تھا، جب مقبوضہ کشمیر کے کپتان دھرْوو مہاجن کو جھاڑکھنڈ کے خلاف اسی طرح آؤٹ قرار دیا گیا تھا۔اس سے قبل رانجی کرکٹ میں صرف 3 بیٹر کو اس طرح آؤٹ قرار دیا گیا تھا جن میں آندھرا کے کے بوانا (64ـ1963)،مقبوضہ کشمیر کے شاہد پرویز (87ـ1986)،تمل ناڈو کے آنند جارج (99ـ1998)شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…