پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

نایاب رولیکس گھڑی ایک ارب 34 کروڑ روپے میں فروخت

datetime 18  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

دبئی(این این آئی) گھڑی ساز سوئس کمپنی رولیکس کی جانب سے 85 سال قبل 1940 میں بنائی گئی نایاب گھڑی ریکارڈ قیمت 47 لاکھ 17 ہزار امریکی ڈالر میں فروخت ہوگئی۔خلیجی اخبار گلف نیوز کے مطابق دبئی میں سنگاپور کی کمپنی فیوچر گرائل نے نایاب گھڑی کی نیلامی کا میلہ منعقد کیا، جس میں گھڑی کو ریکارڈ قیمت پر خرید لیا گیا۔رولیکس نے 1940 کی دہائی میں ‘رولکس 4113’ ماڈل کی صرف 12 گھڑیاں ہی بنائی تھیں جن میں سے اب صرف 9 گھڑیاں ہی دنیا میں موجود ہیں۔

دنیا میں رہ جانے والی 9 میں سے ایک گھڑی دبئی کی نیلامی میں 47 لاکھ 17 ہزار امریکی ڈالر میں فروخت ہوئی، جس کی پاکستانی قیمت تقریبا ایک ارب 34 کروڑ روپے بنتی ہے۔مذکورہ گھڑی رولیکس کی واحد اسپیلیٹ سیکنڈز کرونوگراف گھڑی ہے، اسی طرح کی ایک گھڑی پہلے 12 لاکھ امریکی ڈالر میں فروخت ہوئی تھی لیکن اس بار اسی ماڈل کی گھڑی دگنی سے زائد قیمت پر فروخت ہوئی۔گھڑی کی فروخت کا انتظام کرنے والی کمپنی نے خریدار سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کی، مذکورہ کمپنی خریدار و بیچنے والوں سے 6 فیصد کمیشن لیتی ہے۔مذکورہ کمپنی 2026 میں متحدہ عرب امارات میں اپنے نیلامی کے آپریشنز بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہے، کیوں کہ امارات میں نایاب چیزیں اچھی قیمت پر فروخت کو ہونے لگی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…