پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

چپڑاسی 100 کروڑ کی منی لانڈرنگ میں ملوث نکلا

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

ڈھاکہ (این این آئی)بنگلادیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ کے چپڑاسی پر 100 کروڑ ٹکہ منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔کریمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے برطرف وزیراعظم شیخ حسینہ کے سابق آفس اسسٹنٹ جہانگیر عالم کے خلاف 100 کروڑ ٹکے کی مبینہ منی لانڈرنگ کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق سی آئی ڈی نے ابتدائی تحقیقات میں خاطر خواہ شواہد ملنے کے بعد نوکھالی کے چٹخل تھانے میں درج کیا گیا ہے۔تحقیقات کے مطابق ملزم جہانگیر ابتدا میں نیشنل پارلیمنٹ سیکریٹریٹ میں روزانہ اجرت کی بنیاد پر کام کرتا تھا، 2009 میں عوامی لیگ کے برسر اقتدار آنے کے بعد اسے عارضی طور پر وزیراعظم کے دفتر میں ذاتی معاون کے طور پر تعینات کیا گیا، جس کے نتیجے میں جہانگیر نے مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کیے۔رپورٹ کے مطابق 2010 میں جہانگیر نے ”اسکائی ری ارینج لمیٹڈ”کے نام سے ایک کمپنی قائم کی جو موبائل فنانشل سروسز کی ڈسٹری بیوشن کمپنی کے طور پر کام کر رہی تھی تاہم کمپنی کے کھاتوں میں مشکوک مالی لین دین کا انکشاف ہوا، جن میں بھاری نقد رقوم جمع کروائی گئیں جو کاروباری سرگرمیوں سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

سی آئی ڈی کے مطابق 2010 سے 2024 کے درمیان کمپنی کے مختلف بینک کھاتوں میں 565 کروڑ ٹکے سے زائد کی ٹرانزیکشنز ریکارڈ کی گئیں جن کا بڑا حصہ ملک بھر سے نقد جمع کروائی گئی رقوم پر مشتمل تھا۔ان فنڈز کے ذرائع کی نشاندہی نہیں ہو سکی اور ابتدائی شواہد منی لانڈرنگ اور ہنڈی سرگرمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ جہانگیر، ان کی اہلیہ کمرن نہار اور بھائی منیر حسین کئی سالوں سے غیر قانونی مالی لین دین میں ملوث ہیں۔جہانگیر اور اس کی اہلیہ جون 2024 میں امریکہ منتقل ہو گئے اور اس وقت ریاست ورجینیا میں مقیم ہیں۔سی آئی ڈی کے مطابق بیرون ملک ان کی سرمایہ کاری یا جائیداد کے لیے کوئی سرکاری اجازت نامہ نہیں ملا۔ابتدائی شواہد کے مطابق 2010 سے 2024 کے درمیان جہانگیر، اس کی اہلیہ، بھائی منیر اور اسکائی ری ارینج لمیٹڈ نے مشترکہ طور پر تقریباً 100 کروڑ ٹکے بیرون ملک منتقل کیے۔سی آئی ڈی نے کہا کہ اس معاملے میں دیگر ملوث افراد کی شناخت اور مکمل مالی نیٹ ورک کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…