ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے ایسا پینٹ تیار کرلیا جو ائیرکنڈینشر کی ضرورت ختم کردے گا

datetime 31  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سائنسدانوں نے ایک ایسا جدید پینٹ تیار کیا ہے جو عملاً ائیر کنڈیشنر کی ضرورت کو ختم کر سکتا ہے۔ یہ پینٹ چھت پر لگانے کے بعد اردگرد کے درجہ حرارت کے مقابلے میں سطح کو تقریباً 6 ڈگری سینٹی گریڈ تک ٹھنڈا رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، یہ انقلابی پینٹ نہ صرف گرمی کو کم کرتا ہے بلکہ فضا سے نمی جذب کر کے پانی بھی اکٹھا کرتا ہے، جس سے شدید گرمی کے موسم میں گھر کا اندرونی درجہ حرارت نمایاں طور پر نیچے آ جاتا ہے۔
دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی گرمی کی لہروں اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ائیر کنڈیشنر کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر زیادہ توانائی خرچ ہونے اور لاگت کے باعث یہ سب کے لیے ممکن نہیں۔ اسی پس منظر میں آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے یہ پینٹ تیار کیا ہے جو کم خرچ میں ماحول دوست ٹھنڈک فراہم کرتا ہے۔
یہ پینٹ ایک مخصوص سوراخ دار فلم سے تیار کیا گیا ہے جو سورج کی 96 فیصد شعاعوں کو واپس فضا میں منعکس کر دیتا ہے، یوں چھت کی سطح گرم نہیں ہونے پاتی۔ اس کی سطح مؤثر طور پر حرارت کو منتشر کر کے عمارت کو ٹھنڈا رکھتی ہے۔
سڈنی یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق، دن کے وقت جب سورج پوری شدت سے چمک رہا ہوتا ہے، یہ پینٹ چھت کو اردگرد کی فضا کے مقابلے میں خاصا ٹھنڈا رکھتا ہے۔ اس کی سطح پر فضا میں موجود بخارات جمع ہو کر پانی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے رات کے وقت شبنم کے قطرے گاڑیوں پر جم جاتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ پینٹ کئی گھنٹوں تک فضا سے نمی کھینچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ نتائج معروف سائنسی جریدے ایڈوانسڈ فنکشنل میٹریلز میں شائع ہوئے۔
تجربے کے دوران ماہرین نے سڈنی نانو سائنس ہب کی چھت پر چھ ماہ تک یہ پینٹ لگا کر اس کے اثرات کا مشاہدہ کیا۔ انہوں نے اس پر الٹرا وائلٹ شعاعوں سے محفوظ رکھنے والی ایک خاص کوٹنگ بھی استعمال کی، تاکہ جمع ہونے والا پانی بہہ کر ایک برتن میں جمع کیا جا سکے۔
نتائج کے مطابق، صرف چار ماہ کے عرصے میں فی مربع میٹر روزانہ اوسطاً 390 ملی لیٹر پانی اکٹھا کیا گیا۔ ماہرین کا اندازہ ہے کہ آسٹریلیا میں ایک عام سائز کی چھت روزانہ تقریباً 70 لیٹر پانی فراہم کر سکتی ہے۔
یہ پینٹ ان علاقوں میں بھی انتہائی مفید ثابت ہو سکتا ہے جہاں زیرِ زمین پانی کی کمی ہے۔ ابتدا میں سائنسدانوں نے اس کی تیاری میں vinylidene fluoride-co-hexafluoropropene مرکب استعمال کیا تھا، مگر بعد میں انہوں نے اسی خصوصیات والا پانی پر مبنی پینٹ تیار کر لیا جو زیادہ سستا اور وسیع پیمانے پر قابلِ استعمال ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پینٹ عام رنگ کی طرح کسی بھی عمارت کی چھت پر آسانی سے لگایا جا سکتا ہے اور مستقبل میں یہ توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ ماحول دوست متبادل کے طور پر نمایاں کردار ادا کرے گا۔



کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…