منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

افغان طالبان کی ہٹ دھرمی کے سبب استنبول مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار

datetime 29  اکتوبر‬‮  2025 |

استنبول (نیوز ڈیسک) پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا تیسرا مرحلہ ڈیڈ لاک کا شکار ہوگیا، افغان فریق کے غیر لچکدار رویے کے باعث بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکی۔

ذرائع کے مطابق استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور کا سلسلہ تقریباً 18 گھنٹے جاری رہا۔ بات چیت کے دوران افغان طالبان کے نمائندوں نے پاکستان کے اس مؤقف سے اصولی طور پر اتفاق کیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ اعتماد کارروائی کی جائے۔

معلوم ہوا ہے کہ میزبان ثالثوں کی موجودگی میں افغان وفد نے اس مسئلے کی سنگینی اور سنجیدگی کو تسلیم کیا، تاہم ہر بار کابل سے نئی ہدایات موصول ہونے کے بعد افغان ٹیم نے اپنا مؤقف تبدیل کرلیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کابل کی جانب سے غیر حقیقت پسندانہ رہنمائی ہی مذاکرات کے تعطل کی بنیادی وجہ بنی۔ باخبر حلقوں نے بتایا کہ پاکستان اور ثالث فریق اب بھی انتہائی بردباری کے ساتھ اس پیچیدہ صورتحال کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش میں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ایک آخری سفارتی کوشش جاری ہے تاکہ طالبان کے سخت مؤقف کے باوجود معاملات کو مذاکرات اور منطق کے ذریعے کسی نتیجے تک پہنچایا جا سکے، اور فریقین کے درمیان ممکنہ طور پر ایک حتمی دورِ گفتگو متوقع ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…