اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

وصیت سے متعلق نادیہ افگن کا بیان وائرل

datetime 27  اکتوبر‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)اداکارہ نادیہ افگن نے اپنی ایک حالیہ انسٹاگرام اسٹوری میں معاشرتی رویوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی وفات کے وقت یہ وصیت کریں گی کہ ان کے جنازے میں کسی کو کھانا نہ کھلایا جائے۔انسٹاگرام اسٹوری میں اداکارہ نے بتایا کہ والد کے انتقال کے موقع پر انہیں سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہوا کہ کالونی کے انچارج ان کے پاس آئے اور سب سے پہلے یہ سوال کیا کہ کرسیاں، ٹینٹ اور کھانے کا انتظام کہاں سے کروانا ہے۔

نادیہ افگن نے کہا کہ اس دن وہ دیر رات تک مہمانوں کی خاطر تواضع اور کھانے کے انتظامات میں مصروف رہیں، جبکہ وہ خود شدید غم اور صدمے میں تھیں جبکہ غم کے اس موقع پر لوگوں کی توجہ دکھ اور تعزیت کے بجائے روایتی انتظامات پر مرکوز تھی۔اداکارہ نے کہاکہ اس تجربے نے گہرائی سے متاثر کیا ،چاہتی ہوں کہ انتقال کے وقت ایسا منظر دوبارہ نہ دہرایا جائے، اس لئے وصیت کروں گی کہ میرے انتقال پر کسی کو کھانا نہ کھلایا جائے پھر جس کو آنا ہے آئے نہیں آنا نہ آئے۔نادیہ افگن کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے جس پر صارفین کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آرہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…