ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

پشاور ہائیکورٹ کا گورنر خیبرپختونخوا کو کل نو منتخب وزیر اعلیٰ سے حلف لینے کا حکم

datetime 14  اکتوبر‬‮  2025 |

+اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پشاور ہائیکورٹ نے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو ہدایت دی ہے کہ وہ نو منتخب وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے بدھ کے روز شام 4 بجے حلف لیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر گورنر کسی وجہ سے حلف نہیں لیتے تو اسی دن اسپیکر صوبائی اسمبلی نئے وزیر اعلیٰ سے حلف لیں گے۔

یہ فیصلہ اس درخواست پر سنایا گیا جس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے حلف نہ لینے کے معاملے پر عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ فیصلہ چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ کی سربراہی میں سنایا گیا۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ گورنر اس وقت سرکاری دورے پر ہیں اور وہ کل دوپہر 2 بجے تک وطن واپس آجائیں گے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا گورنر نے حلف برداری کے حوالے سے کوئی مؤقف دیا ہے؟

اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گورنر نے علی امین گنڈاپور کے استعفے کی منظوری کے لیے انہیں بلایا ہے۔ عدالت نے مزید پوچھا کہ کیا گورنر نے نئے وزیر اعلیٰ سے حلف لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے یا نہیں؟

جواب میں عدالت کو بتایا گیا کہ گورنر کے آنے کے بعد ہی فیصلہ کیا جائے گا، اور اس سلسلے میں عامر جاوید ایڈووکیٹ کو گورنر کی جانب سے دلائل کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

عامر جاوید ایڈووکیٹ نے عدالت سے مؤقف اپنایا کہ گورنر کی واپسی تک انتظار کیا جائے، کیونکہ وہ آنے کے بعد حلف برداری کا عمل مکمل کر لیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئے وزیر اعلیٰ کے حلف تک موجودہ وزیر اعلیٰ اپنے فرائض انجام دیتے رہیں گے۔

تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ اصول اس وقت لاگو ہوتا ہے جب الیکشن نہ ہوا ہو، جبکہ اس معاملے میں انتخابات مکمل ہو چکے ہیں اور دیگر جماعتوں کے امیدواروں نے بھی وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…