اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

پاوری گرل شو میں انٹری کے دوران لڑکھڑا گئیں، ویڈیو وائرل

datetime 14  اکتوبر‬‮  2025 |

ہیوسٹن (این این آئی)سوشل میڈیا اسٹار سے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے والی دنانیر مبین ایک بار پھر ایوارڈ شو کے ریڈ کارپٹ پر پیش آنے والے دلچسپ واقعے کے باعث خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔پاوری ہو رہی ہے وائرل ویڈیو سے شہرت حاصل کرنے والی دنانیر اس وقت امریکا کے شہر ہیوسٹن میں ایک ایوارڈ تقریب میں شریک تھیں، جہاں ریڈ کارپٹ پر چلتے ہوئے وہ اچانک لڑکھڑا گئیں، تاہم انہوں نے توازن بحال کرتے ہوئے خود کو گرنے سے بچا لیا۔

تقریب میں دانانیر نے ہلکے نیلے رنگ کا چمکدار سلکی گان زیب تن کیا ہوا تھا۔ اس سء قبل بھی ایک ایوارڈ شو میں دنانیر اس ہی طرح لڑکھڑا کر گِر پڑیں تھیں تب انہیں ساتھی اداکار خوشحال خان نے سہارا دیا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے پر مختلف ردِعمل کا اظہار کیا۔ بعض نے ان کے لباس کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوور سائز گان اور ہائی ہیلز کے باعث حادثہ پیش آیا، جبکہ کچھ صارفین نے مزاحیہ تبصرے بھی کیے کہ دنانیر ہمیشہ ہی گِر جاتی ہیں۔اس واقعے کی ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور مختلف پلیٹ فارمز پر موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…