اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

مچھروں کو خود سے دور رکھنا چاہتے ہیں؟ سائنسدانوں نے آسان طریقہ جان لیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) دنیا کے سب سے خطرناک جاندار کا لقب مچھروں کو دیا جاتا ہے کیونکہ ان کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں سے ہر سال لاکھوں جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔

روزمرہ کی زندگی میں ان سے بچنا آسان نہیں ہوتا، لیکن سائنسدانوں نے اب ایک مؤثر اور سادہ طریقہ تجویز کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آپ چاہتے ہیں کہ مچھر آپ کے قریب نہ آئیں تو سن اسکرین کا استعمال کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ انکشاف نیدرلینڈز میں کی گئی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔

تحقیق کی تفصیلات

Radboud یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے سائنسدانوں نے نیدرلینڈز کے علاقے Biddinghuizen میں ہونے والے ایک میوزک فیسٹیول کے دوران تجربہ کیا۔ تین دن تک شپنگ کنٹینرز کو عارضی لیبارٹریز میں بدل دیا گیا، جہاں فیسٹیول میں شریک افراد نے رضاکارانہ طور پر حصہ لیا۔

رضاکاروں نے اپنے ہاتھ شفاف ایکریلک بکسوں میں ڈالے جن میں مچھر موجود تھے۔ کیمروں اور کمپیوٹرز کے ذریعے یہ ریکارڈ کیا گیا کہ مچھر کس حد تک ان افراد کی طرف راغب ہوتے ہیں۔

حیران کن نتائج

500 سے زائد افراد پر ہونے والے تجربے میں یہ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ مچھروں کے لیے زیادہ پرکشش تھے، جبکہ کچھ کی طرف مچھر خاص توجہ نہیں دیتے۔
تحقیق کے مطابق بیئر پینے والے افراد مچھروں کے لیے 44 فیصد زیادہ کشش رکھتے ہیں۔ اسی طرح، ایسے لوگ جو دوسروں کے قریب سوتے ہیں، وہ بھی مچھروں کے نشانے پر جلد آ جاتے ہیں۔

مچھروں سے بچاؤ کا طریقہ

سائنسدانوں نے یہ بھی دریافت کیا کہ سن اسکرین استعمال کرنے والوں پر مچھر کم حملہ کرتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق سن اسکرین لگانے والے افراد پر مچھروں کے حملوں میں تقریباً 50 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔

اگرچہ ماہرین نے یہ تسلیم کیا کہ تحقیق کے شرکاء زیادہ تر نوجوان تھے اس لیے نتائج ہر عمر کے افراد پر لاگو نہیں کیے جا سکتے، لیکن اس مطالعے نے یہ ضرور واضح کر دیا کہ مچھر کن لوگوں کو اپنا آسان شکار سمجھتے ہیں اور ان سے بچنے کے طریقے کیا ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…