اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

شیر خوار بچوں کی رونے کی آوازوں سے بالغ افراد کیا فائدہ ہو تا ہے؟ تحقیق میں دلچسپ انکشاف

datetime 15  ستمبر‬‮  2025 |

لندن(این این آئی)ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شیر خوار بچے کے رونے کی آوازیں، خاص طور پر جب بچہ تکلیف میں ہوتا ہے، کسی بالغ فرد کے چہرے کے درجہ حرارت کو تبدیل کر دیتی ہیں، جس سے ان کا چہرہ سرخ اور چمکدار ہوجاتا ہے۔جرنل آف دی رائل سوسائٹی انٹرفیس میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کسی بالغ فرد کی جانب سے یہ ردعمل بچوں کو جواب دینے کا ایک فطری طریقہ ہوتا ہے۔

بچے کی تکلیف جتنی شدید ہوگی اس کے رونے کی آواز میں بھی اتنی ہی شدت ہوگی، شیر خوار بچوں کی عام حالت اور تکلیف سے رونے کی آوازوں میں واضح فرق ہوتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق جب بچہ کسی تکلیف سے روتا ہے تو وہ اپنی پسلیوں کو زبردستی مضبوط کرکے پورا زور ووکل فولڈز پر ڈالتا ہے تاکہ وہ اونچی، ناہموار اور سخت آوازیں نکال سکے، اسے نان لائنر فینومینا (این ایل پی)کہتے ہیں۔فرانسیسی محققین نے اس بات کا مطالعہ کیا کہ شیر خوار بچوں کی چیخیں کس طرح بالغ افراد کے اعصابی نظام کو لاشعوری طور پر متاثر کرتی ہیں اور یہ کس جسمانی رد عمل کا سبب بنتی ہیں؟محققین نے اس تحقیقی مطالعے کے لیے 41 بالغ افراد، جن میں 21 مرد اور 20 خواتین شامل ہیں، کا جائزہ لیا ہے کہ وہ بچوں کے رونے کی آوازوں پر کیسے ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔

تحقیقی مطالعے کے لیے محققین نے 16 بچوں کی 23 ریکارڈنگ کلپس 41 بالغ افراد کو سنائی اور ان کے ردعمل کا جائزہ لیا۔ان ریکارڈنگ کلپس میں بچوں کی ہلکی سی تکلیف جیسے نہانے کے دوران اور شدید تکلیف جیسے ویکسین کے انجیکشن کے وقت رونے کی آوازیں شامل تھیں، جیسے ہی شرکا نے ان آوازوں کو سنا تو ایک تھرمل کیمرے نے ان کے چہرے کے درجہ حرارت میں ہونے والی تبدیلیوں کو ٹریک کیا۔مطالعہ کے نتائج سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ بچوں کی شدت سے رونے کی آوازوں سے بالغوں میں مضبوط جسمانی رد عمل پیدا ہوتا ہے، جیسے کہ چہرے کے درجہ حرارت میں اضافہ اور اس کا سرخ ہوکر چمکنا شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…