اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

زرداری اور پرویز مشرف کے درمیان نئی جنگ کے کتنے خوفناک نتائج ہونگے کلک کر کے پڑھیں

datetime 29  دسمبر‬‮  2014 |

کراچی۔۔۔۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کچھ عناصر کے ساتھ مل کر سندھ حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل نے سابق صدر آصف علی زرداری کے ترجمان سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ایسی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔’اسٹیبلشمنٹ کی ناسمجھی سے جہاد ملک بھر میں پھیل گیا‘بیان کے مطابق’ کئی ایسی وجوہات موجود ہیں جن کی بنیاد پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور پارٹی کو یقین ہے کہ سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کچھ عناصر کے ساتھ مل کر سندھ حکومت کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔‘
بیان میں سیاسی جماعتوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ چند عناصر کی جانب سے سندھ حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششوں کا نوٹس لیں۔سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف وہ ضمانت پر ہیں، دوسری جانب فوج ان کے ساتھ ہے اور تیسری جانب وہ سیاست بھی کر رہے ہیں۔سندھ میں حکمراں جماعت پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے بیان میں مزید کہا کہ’ پیپلزپارٹی ایک متحد سیاسی قوت ہے اور جو ہارس ٹریڈنگ کے ذریعے موجودہ صوبائی حکومت کو گرانا چاہتے ہیں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔اس بیان سے ایک دن پہلے سنیچر کو ملک کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی برسی کے موقعے پر ایک تقریر میں سابق صدر آصف علی زردای نے کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خلاف ہونے والی ’شازشوں‘ سے باخبر ہے۔ ’ میں سونگھ رہا ہوں کہ بِلّا اپنے گھر میں بیٹھا ہوا سازشیں کر رہا ہے۔‘سابق صدر ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’ایک طرف وہ ضمانت پر ہیں، دوسری جانب فوج ان کے ساتھ ہے اور تیسری جانب وہ سیاست بھی کر رہے ہیں۔

سابق فوجی صدر مشرف ان دنوں کراچی میں رہائش پذیر ہیں
’ایک کام ہونا چاہیے، یا فوج ان کے ساتھ نہ چلے یا وہ سیاست نہ کریں۔ اگر فوج نے اس سے سیاست کرانی ہے تو وہ صاف کہہ دے کہ یہ ان کا نمائندہ ہے، تاکہ ہمیں صاف پتہ لگ جائے کہ ہمارا مقابلہ کس قوت سے ہے۔
گذشتہ ہفتے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو کام کرنے سے روک دیا تھا۔
2008 کے انتخابات میں پیپلزپارٹی اقتدار میں آئی تھی تاہم 2013 کے انتخابات میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن صوبہ سندھ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ متحدہ قومی موومنٹ صوبائی حکومت کا حصہ بنی تھی لیکن بعد میں پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے ایم کیو ایم مخالف بیانات پر اس نے صوبائی حکومت سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…