ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

احمد آباد میں تباہ ہونے والے بھارتی طیارے کا بچ جانے والا واحد مسافر کون ہے؟

datetime 13  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈٰیسک)شہر حیدرآباد میں ایئر انڈیا کا ایک مسافر طیارہ پرواز کے صرف ایک منٹ بعد ہی گر کر تباہ ہوگیا، افسوسناک واقعے میں 240 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے، جب کہ حیران کن طور پر ایک شخص محفوظ رہا۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ المناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب طیارہ ٹیک آف کے فوراً بعد ایک ہاسٹل کی عمارت پر جا گرا۔ تصادم اتنا شدید تھا کہ آگ کے شعلے آسمان تک بلند ہوئے اور عمارت مکمل طور پر جل کر خاکستر ہوگئی۔ ریسکیو ٹیموں کو طیارے کے ملبے سے کئی جلی ہوئی لاشیں ملی ہیں جو ناقابل شناخت ہیں۔

حادثے کے وقت طیارے میں کل 242 افراد سوار تھے جن میں عملے کے ارکان کے علاوہ 169 بھارتی شہری، 61 غیر ملکی اور 2 نومولود بھی شامل تھے۔ سابق وزیراعلیٰ گجرات بھی بدقسمتی سے اسی پرواز کا حصہ تھے۔ تمام افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی تھی، تاہم اب ایک شخص کے زندہ بچ جانے کی حیران کن خبر سامنے آئی ہے۔زندہ بچ جانے والا معجزاتی مسافرطیارے میں سوار 40 سالہ وشواش کمار رمیش، جو ایک برطانوی نژاد بھارتی شہری ہیں، معجزانہ طور پر اس حادثے میں زندہ بچ گئے۔ رمیش، جو لندن میں مقیم ہیں، اپنے خاندان سے ملنے بھارت آئے تھے اور حادثے کے روز واپس روانہ ہو رہے تھے۔ایک مقامی انگریزی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے وشواش کمار نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی کے ہمراہ بھارت آئے تھے اور اسی پرواز کے ذریعے وطن واپس لوٹ رہے تھے۔

پرواز کے صرف تیس سیکنڈ بعد ایک دھماکا ہوا اور طیارہ اچانک نیچے آ گرا۔رمیش نے بتایا کہ ان کے سینے، آنکھ اور ٹانگوں پر چوٹیں آئیں لیکن وہ مکمل ہوش میں تھے اور فوری طور پر وہاں سے نکلنے میں کامیاب رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے آنکھ کھولی تو ہر طرف لاشیں بکھری ہوئی تھیں، وہ گھبراہٹ میں اٹھے اور مدد کے لیے دوڑے۔ایک مقامی فرد نے انہیں زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا، جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں کچھ وقت کے لیے آئی سی یو میں رکھا گیا۔

ڈاکٹرز کے مطابق ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔حادثے میں نئی پیشرفتاحمد آباد پولیس کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں حادثے میں کسی کے زندہ بچنے کا امکان نہ ہونے کا کہا گیا تھا، لیکن وشواش کمار کی بحفاظت بچ جانے کی خبر نے اس سانحے میں ایک نئی پیشرفت پیدا کر دی ہے۔ ان کے اہل خانہ کو جیسے ہی اطلاع ملی، اسپتال میں جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وشواش کمار جہاز کی پچھلی نشستوں پر بیٹھے تھے، جس حصے پر طیارہ گرنے کے بعد آگ نہیں پھیلی، ممکنہ طور پر یہی ان کے زندہ بچنے کا سبب بنا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…