ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد دفاعی نظام کی خریداری، بھارت کی جنگی تیاریاں تیز

datetime 11  جون‬‮  2025 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی وزارت دفاع نے 30 ہزار کروڑ روپے مالیت کے دفاعی نظام کی خریداری کی تجویز منظوری کیلئے پیش کردی۔بھارتی فوج کیلئے ”کوئیک ری ایکشن سرفیسـٹوـائیر میزائل سسٹم” (QRSAM) خریداری کی منظوری لی جائے گی۔بھارتی نیوز ایجنسی اے این آئی نیوزکی رپورٹ کے مطابق، ‘اس دفاعی نظام کی مالیت تقریباً 30 ہزار کروڑ روپے ہے’۔اے این آئی کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ بھارتی فوج کی فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے لیا گیا ہے۔

نیوز ایجنسی کے مطابق دفاعی نظام QRSAM کی رینج 30 کلومیٹر تک ہے، یہ نظام موبائل ہے اور 360 ڈگری ریڈار کوریج فراہم کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ جدید نظام ڈی آر ڈی او، بی ای ایل اور بی ڈی ایل کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ جو ڈرونز، ایئرکرافٹ اور کروز میزائلز کیخلاف 24 گھنٹے آپریشنل رہ سکتا ہے۔دفاعی نظام کے حصول کی منظوری ثابت کرتی ہے کہ بھارتی حکومت جنگی جنون میں مبتلا ہے۔آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد بھارت کی بڑے پیمانے پر اسلحے کی خریداری خطے کے امن کیلئے بڑا خطرہ ہے۔حکومت پاکستان اس بات کو واضح کر چکی ہے کہ بھارت نے جارحیت کی تو پاکستان اپنے دفاع میں بھرپور جوابی وار کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…