ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بلاوا آئے تو کون روک سکے۔۔۔ جہاز نے حاجی کے بنا اڑنے سے انکار کردیا، پائلٹ بے بس

datetime 30  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایک لیبیائی نوجوان عامر المہدی کی سچی نیت اور غیر متزلزل ایمان کی ایسی کہانی منظر عام پر آئی ہے جس نے سوشل میڈیا پر سب کے دل جیت لیے۔ یہ واقعہ خالص یقین اور مضبوط ارادے کی ایک غیر معمولی مثال بن چکا ہے۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ جنوبی لیبیا کے سبہا ایئرپورٹ پر، عامر المہدی کو حج کے سفر کے لیے طیارے میں سوار ہونے کی اجازت نہ مل سکی۔ حکام نے اس کے سفری دستاویزات میں ایک تکنیکی خامی کی بنا پر اسے روکا، اور باقی مسافر وقت پر روانہ ہو گئے۔ مگر عامر نے ہار نہ مانی۔

ایئرپورٹ کے ہال میں بیٹھا وہ نوجوان بار بار دہراتا رہا: “میں نے حج کی نیت باندھ لی ہے، اور میں ضرور جاؤں گا!”
جہاز کے اڑ جانے کے بعد بھی وہ وہاں سے نہ ہٹا۔ لوگوں نے سمجھانے کی کوشش کی، مگر اس کا یقین متزلزل نہ ہوا۔

قدرت نے بھی گویا عامر کے جذبے کو سلام کیا۔ فلائٹ فضا میں پہنچتے ہی فنی خرابی کا شکار ہو گئی اور واپس ایئرپورٹ اتار لی گئی۔ تاہم، جب عامر نے سوار ہونے کی دوبارہ درخواست کی، تو پائلٹ نے سیڑھیاں کھولنے سے انکار کر دیا، اور طیارہ مرمت کے بعد دوبارہ روانہ ہو گیا۔

عامر اس وقت بھی ایئرپورٹ پر ڈٹا رہا۔ اس نے کہا: “یہ طیارہ میرے بغیر نہیں جا سکتا، یہ واپس آئے گا!”
اور حیرت انگیز طور پر، وہی ہوا۔ طیارے میں ایک اور فنی خرابی پیدا ہوئی اور اسے دوبارہ لینڈنگ کرنا پڑی۔

اس بار پائلٹ نے اعلان کیا: “جب تک عامر المہدی طیارے میں سوار نہیں ہوتا، ہم روانہ نہیں ہوں گے۔”
یوں آخرکار، عامر المہدی اپنے یقین، صبر اور خلوصِ نیت کے سبب اس فلائٹ کا حصہ بن گیا۔ اس کی سوار ہونے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا۔

عوامی ردعمل
سوشل میڈیا پر اس واقعے کو ایمان، سچائی اور صبر کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک صارف نے لکھا:
“جب ایک طیارہ دو بار صرف تمہارے لیے واپس آئے، تو یہ اللہ سے خاص تعلق کی نشانی ہے۔”

دوسرے نے کہا:
“ایمان جب عمل سے بڑا ہو، اور یقین اللہ کی ذات پر کامل ہو، تو معجزے رونما ہوتے ہیں۔”

کچھ لوگوں نے لیبیا کے ایوی ایشن سسٹم پر تنقید بھی کی، لیکن اکثریت عامر المہدی کی استقامت پر فخر محسوس کرتی دکھائی دی۔

اب عامر المہدی بیت اللہ پہنچ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس کی احرام میں ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، جہاں وہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہا ہے:
“الحمدللہ! میں مکہ پہنچ گیا ہوں!”

یہ واقعہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جب نیت خالص ہو اور یقین کامل، تو دروازے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…