منگل‬‮ ، 13 اکتوبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کے دورہ امریکا کے بعد پاک بھارت مذاکرات کی بحالی کا امکان

datetime 17  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیراعظم نوازشریف کے دورہ امریکا اور صدر باراک اوباما کے ساتھ ملاقات کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان ”مشیر برائے قومی سلامتی“ کی سطح پر بات چیت کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق ممکنہ پاک بھارت بات چیت دونوں ممالک کے مشیر برائے قومی سلامتی کی سطح پر ہوسکتی ہے تاہم اگر اس پلیٹ فارم پر یہ بات چیت نہ ہوسکی تو جنوب ایشیائی جوہری ممالک ”بیک چینل ڈپلومیسی“ کا آغاز بھی کرسکتے ہیں جس کا مقصد بھی باضابطہ مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہوگی۔ وزیراعظم نوازشریف اس ماہ کی 20تاریخ کو اپنے تین روزہ دورہ امریکا کا آغاز کریں گے۔اس دورے میں وہ امریکی صدر باراک اوبامہ سے ملاقات کریں گے اور ان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے دیگر امور کے ساتھ ساتھ پاک بھارت تعلقات اور بلخصوص دونوں پڑوسی ممالک کے مراسم میں پائی جانے والی کشیدگی پر تبادلہ خیال کریں گے۔ذرائع کے مطابق امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکراتی عمل کے آغاز میں گہری دلچسپی لے رہا ہے اور اس مقصد کیلئے اس نے سفارتی چینلز کو بھی استعمال کیا ہے۔امریکی حکام چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی سرحد پر سکون ہو اور پاکستان افغانستان سے ملنے والی سرحد پر اپنی توجہ پوری طرح مرکوز رکھ سکے۔تاہم اس کو اس بات کا بھی علم ہے کہ جب تک پاکستان کی مشرقی سرحد پر تناو¿ کی کیفیت ہے وہ اپنی مغربی سرحد پر توجہ پوری طرح قائم نہیں رکھ سکتا۔ذرائع نے بتایا کہ پاک بھارت بیک چینل سفارتکاری شروع ہونے کی صورت میں دونوں ممالک سے سابق سینئر سفارتکار کشیدگی کے خاتمے اور باضابطہ امن بات چیت کی دوبارہ سے شروعات کے حوالے سے مختلف تجاویز پر بات چیت کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے پاکستانی سرزمین میں بھارت کی مداخلت اور یہاں ہونے والی دہشت گردی کی بھارتی معاونت کے ثبوت اقوام متحدہ میں پیش کرنے کے بعد سے بھارتی حکومت دباو¿ کا شکار ہے اور اس بات کے کافی امکانات ہیں کہ وہ اب مذاکرات کی راہ اختیار کرے گی۔ایک پاکستانی سفارت کار نے رابطہ کرنے پر پاک بھارت بات چیت یا بیک چینل سفارت کاری کے ممکنہ آغاز کے بارے میں تو لاعلمی کا اظہار کیا تاہم انھوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے اور یہ بھارت ہے جس نے ہمشیہ امن کے عمل سے روگردانی کی ہے۔انھوں نے کہا کہ پاکستان بات چیت کیلئے تیار ہے مگر بھارت کو مسئلہ کشمیر پر سنجیدہ مذاکرات کرنے ہونگے اور بات چیت کے عمل کو دہشت گردی کے ایک ہی نکتے تک محدود کرنے کی کوششوں سے باز آنا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…