اسلام آباد: (نیوز ڈیسک) قومی اسمبلی کے رکن شیر افضل خان مروت نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کے کہنے پر سیاست میں آئے اور ان ہی کی بدولت عوام میں پہچان ملی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پارٹی کے بانی خود انہیں پارٹی چھوڑنے کا کہتے تو وہ بلا جھجک الگ ہو جاتے۔
شیر افضل نے کہا کہ ان کے اور پارٹی کے بانی کے درمیان کسی قسم کی رنجش نہیں ہے، تاہم بعض افراد غلط بیانی کر کے اُن کے درمیان بدگمانیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ پی ٹی آئی قیادت کی بانی سے ملاقاتوں کی راہ بھی انہی کی کوششوں سے ہموار ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں چغل خوری اور باہمی رقابت نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی قریب ہے لیکن تاحال پارٹی کی جانب سے کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئیں، وہ اب بھی خود کو تحریک انصاف کا کارکن تصور کرتے ہیں۔ شیر افضل مروت نے 2024 کے انتخابات کو پی ٹی آئی کی جیت قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ 2018 میں بھی اصل کامیاب جماعت پی ٹی آئی ہی تھی۔
پارٹی سے نکالے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جن افراد نے انہیں جماعت سے نکالا ہے، انہیں خود شرمندگی محسوس کرنی چاہیے کیونکہ انہیں پارٹی سے الگ کرنے کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی نے نہیں کیا۔
شیر افضل خان مروت نے مزید کہا کہ وہ اپنے قبیلے کے سردار ہیں اور ان کے آبا و اجداد بھی سیاست سے وابستہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے کبھی کسی اور پلیٹ فارم سے انتخاب نہیں لڑا اور پی ٹی آئی ہی ان کی پہلی جماعت ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ انہوں نے پارٹی بانی کے بارے میں کوئی غلط بات نہیں کہی۔
پروگرام کے دوران انہوں نے فیصل واوڈا کو دلچسپ مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مونچھیں رکھیں۔ مریم نواز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ ان کی سیاسی حریف ہیں، لیکن ان کا موازنہ بزدار سے کرنا مناسب نہیں ہے۔



















































