اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

خلیل الرحمان قمر ہنی ٹریپ و اغوا کیس کا فیصلہ آگیا

datetime 15  اپریل‬‮  2025 |

لاہور ( این این آئی) لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے معروف ڈرامہ رائٹر خلیل الرحمان قمر کیس کا فیصلہ سنادیا، ملزمہ آمنہ عروج، ممنون حیدر اور ذیشان کو 7، 7 سال قید کی سزا سنادی گئی جبکہ دیگر ملزمان کو بری کر دیا گیا ۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان آمنہ عروج، ممنون حیدر اور زیشان کو تاوان طلب کرنے کے جرم میں سات، سات سال قید کی سزا سنائی۔ تاہم عدالت نے قرار دیا کہ اغواء کا الزام ثابت نہیں ہو سکا، اس لیے اس بنیاد پر سزا نہیں دی گئی۔عدالت نے حسن شاہ سمیت دیگر نامزد افراد کو ناکافی شواہد کی بنا پر بری کر دیا، ہنی ٹریپ کیس کا محض ایک ملزم ضمانت پر رہا ہے۔ عدالت کے مطابق پراسیکیوشن کی جانب سے 17گواہان نے شہادتیں قلمبند کرائیں گئیں، جن کی روشنی میں فیصلہ سنایا گیا۔

یاد رہے کہ اس مقدمے میں خلیل الرحمن قمر کو مبینہ طور پر ہنی ٹریپ کر کے اغواء کیا گیا تھا اور بعد ازاں ان سے تاوان طلب کیا گیا تھا۔ خلیل الرحمن قمر کو 15جولائی کو ملزمان کی جانب سے مبینہ طور پر اغواء برائے تاوان کیا گیا۔ ملزمان کے خلاف 21جولائی کو تھانہ سندر میں اغواء اور دہشتگری کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا۔ اگست میں انسداد دہشتگری عدالت میں کل 11ملزمان کا ٹرائل شروع ہوا۔خلیل الرحمن قمر ہنی ٹریپ کیس میں کل 17 گواہان عدالت میں پیش ہوئے۔ گواہان میں خلیل الرحمن قمر، خلیل الرحمن قمر کے دوست، پولیس اور بینک کا عملہ شامل ہے، خلیل الرحمن قمر ہنی ٹریپ کیس کا محض ایک ملزم ضمانت پر رہا ہے ۔واضح رہے کہ مرکزی ملزمہ آمنہ عروج کی درخواست ضمانت لاہور ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…