جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

پی ٹی آئی انتشار کا شکار’ بانی کی رہائی کا خواب دیکھنا محض فریب ہے’شیر افضل مروت

datetime 7  اپریل‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے سابق رہنما اور رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے موناٹائزڈ سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا کبھی آڈٹ نہیں ہوا، ان لوگوں نے قسط وار کہانیاں گڑھی ہوتی ہیں، جب مخالفین کے خلاف خبریں کم پڑجاتی ہیں تو اپنوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں، اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی، کردار کشی اور گالم گلوچ کے کلچرسے پی ٹی آئی کو رسوائی ملی۔ رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت پارٹی کی موجودہ حالت، سوشل میڈیا ٹیموں کے رویے اور قیادت کی غیر موجودگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس وقت انتشار کا شکار ہے اور اس حال میں بانی کی رہائی کا خواب دیکھنا محض ایک فریب ہے۔

شیر افضل مروت نے پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کا اکاؤنٹ بھی موناٹائزڈ ہے، پی ٹی آئی کے موناٹائزڈ اکاؤنٹس کا کبھی آڈٹ نہیں ہوا، کئی لوگوں کی آنکھوں پر ڈالرز کی پٹی بندھی ہے، یہ لوگ سراسر جھوٹ بولتے ہیں۔رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ گالم گلوچ کے کلچر نے پی ٹی آئی کو رسوائی دی، ہماری شناخت ایک بدتمیز اور لڑائی جھگڑے والے گروہ کی بن گئی، اسی وجہ سے ہمیں انتشاری کہا جاتا ہے، ان لوگوں نے قسط وار کہانیاں گڑھی ہوتی ہیں، جب مخالفین کے خلاف خبریں کم پڑجاتی ہیں تو اپنوں کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔

شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہر لیڈر نے سوشل میڈیا ٹیم بنائی ہوئی ہے اور عثمانی جنگوں کی طرح جنگیں ہوتی ہیں، ایک دوسرے کے خلاف گالم گلوچ ہوتی ہے، کہاں گئی قیادت؟، کیا اتنا منتشر ہوکر یہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو رہا کرائیں گے؟ جو ایک سپاہی کے ڈنڈے کی وجہ سے گھر سے نہیں نکلتے، کیا یہ لوگ انقلاب لائیں گے؟ یہ نظر بھی نہیں آئیں گے، پی ٹی آئی کے پاس عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…