بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

حج انتظامات میں دوسرے ممالک کوشریک کرنے کامطالبہ ،حافظ سعید کاانتباہ

datetime 15  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)امیر جماعةالدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ سعودی عرب سے حج انتظامات میں دوسرے ممالک کو شریک کرنے کا مطالبہ درست نہیں، حجاج کرام کیلئے بہترین انتظامات پر پورا عالم اسلام مطمئن ہے،حادثات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں، کسی اتفاقی حادثہ کی بنیاد پر بے بنیاد پروپیگنڈا اور امت میں اختلافات پیدا کرنے کی کسی صورت تائید نہیں کی جاسکتی،پاکستانی قوم سعودی عرب کی خدمات پر اسے قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔اپنے بیان میں انہوںنے کہاکہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مملکت سعودی عرب کی جانب سے حج بیت اللہ کی خاطر آنے والے مسلمانوں کیلئے ہمیشہ اعلیٰ ترین انتظاما ت کئے جاتے اور حجاج کرام کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ اگر اتفاقیہ طور پر کوئی حادثہ پیش آجائے توقطعی طور پر اس کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتااور نہ ہی حج انتظامات میں کسی دوسرے ملک کو شریک کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ ایسی باتیں امت مسلمہ میں اختلافات پیدا کرنے کا سبب بنیں گی۔ حافظ محمد سعید نے کہاکہ سعودی حکومت کی جانب سے حجاج کرام کیلئے ہر سال پہلے سے بڑھ کر انتظام و انصرام کی ذمہ داریاں سرانجام دی جاتی ہیں۔امسال بھی لاکھوں افراد کیلئے بہترین انتظامات کئے گئے تاہم انہوں نے انتباہ کیا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حج کیلئے جانے والے مسلمان سعودی حکومت کی جانب سے دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کریں تاکہ ممکنہ طور پر پیش آنے والے حادثات سے بچا جاسکے۔انہوںنے کہاکہ مملکت سعودی عرب کی طرف سے حجاج کرام کیلئے کئے جانے والے مثالی انتظامات کی ساری دنیا معترف ہے اور اللہ کے مہمانوں کی خدمت وہ اپنے لئے باعث اعزاز سمجھتے ہوئے اس میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ کسی ملک یا شخصیت کو ایسے کسی قسم کے مطالبہ سے گریز کرنا چاہیے جس سے امت میں انتشار و افتراق پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…