پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

بوتل بند پانی فروخت کرنیوالے 28برانڈز انسانی استعمال کیلئے غیر محفوظ قرار، نام بھی سامنے آگئے

datetime 10  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کونسل فار ریسرچ اِن واٹر ریسورسز ( پی سی آر ڈبلیو آر) نے بوتل میں بند پانی فروخت کرنے والے کم ازکم 28 برانڈز کو مائیکرو بائیولوجیکل یا کیمیائی آلودگی کے باعث انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا۔پی سی آر ڈبلیو آر کے مطابق پاکستان بھر کے 20 شہروں سے منرل واٹر برانڈز کے 176 نمونے جمع کیے گئے تھے۔پانی کے نمونوں کے تجزیے کے نتائج کا پاکستان اسٹینڈرز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی ( پی ایس کیو سی اے) کے متعین کردہ بوتل بند پانی کے معیار سے موازنہ کیا گیا تو 28 برانڈز مائیکرو بائیولوجیکل یا کیمیائی آلودگی کے باعث انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار پائیں۔

میراں ڈرنکنگ واٹر، پاک ایکوا، جیل بوٹلڈ واٹر، نیوز، آبِ دبئی، الٹسن، پیور واٹر، ایکوا ہیلتھ، اوسلو اور مور پلس سمیت 10 برانڈز کو سوڈیم کی زائد مقدار کے باعث غیرمحفوظ پایا گیا۔ون پیور ڈرنکنگ واٹر، انڈس، پریمیئم صافا پیوریفائیڈ واٹر اور اورویل اینڈ نیچرل پیور لائف سمیت 5 برانڈز آرسینک کی انتہائی زائد مقدار کے باعث غیرمحفوظ قرار پائے جبکہ ایک برانڈ ہنزا اْتر واٹر کو پوٹاشیئم کی مطلوبہ معیار سے انتہائی زائد مقدار کے باعث انسانی استعمال کے لیے غیرمحفوظ قرار دیا گیا۔اسی طرح مزید 16 برانڈز بشمول ایس ایس واٹر، سِپ سِپ پریمیئم ڈرنکنگ واٹر، میراں ڈرنکنگ واٹر، ڈیـنووا، اسکائی رین، نیو، پیور واٹر، ڈریم پیور، ایکوا شَارو پیور ڈرنکنگ واٹر، ماروی، آئی ویل، اکب اسکائی، قراقرم اسپرنگ واٹر، مور پلس، ایسینشیا اینڈ لائف اِن کو پانی میں بیکٹیریا کی موجودگی کے باعث غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…