بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

شوہرکاگردہ فروخت کر کے بیوی آشنا کے ساتھ فرار

datetime 3  فروری‬‮  2025 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی ریاست مغربی بنگال میں ایک خاتون نے مبینہ طور پر اپنے شوہر کو 10 لاکھ روپے میں گردہ بیچنے پر مجبور کیا اور بعد میں محبوب کے ساتھ رقم لے کر فرار ہو گئی۔ بھارتی کے مطابق یہ واقعہ ہاوڑہ ضلع کے سانکریل علاقے کا ہے جہاں خاتون نے بیٹی کی تعلیم اور شادی کے اخراجات کا بہانہ بنا کر شوہر کو گردہ بیچنے پر راضی کیا۔خاتون کے مسلسل اصرار پر شوہر نے آخر کار گردہ بیچنے کی حامی بھر لی۔

تقریبا ایک سال کی تلاش کے بعد تین ماہ قبل اسے خریدار مل گیا۔ اسے امید تھی کہ گردہ بیچنے سے حاصل ہونے والی رقم سے اس کے مالی حالات بہتر اور مستقبل میں بیٹی کی شادی کیلیے انتظامات میں آسانی ہوگی۔تاہم، شوہر اپنی بیوی کے ارادوں سے لاعلم تھا۔ جب وہ اپنی غربت دور کرنے کی کوشش کر رہا تھا، اس کی بیوی کا ایک دوسرے شخص کے ساتھ مستقبل بنانے کا منصوبہ بنا رہی تھی جو پیشے کے لحاظ سے ایک پینٹر تھا جس سے اس کی ملاقات فیس بک پر ہوئی تھی۔ جلد ہی دونوں کے درمیان تعلقات استوار ہو گئے اور وہ شوہر کے بیچے ہوئے گردے سے حاصل ہونے والی رقم لے کر فرار ہوگئے۔

اس واقعے کے بعد شوہر نے پولیس کو شکایت درج کروائی اور دونوں کو تلاش کیا۔ شوہر کے اہل خانہ اس خاتون کی 10 سالہ بیٹی کے ساتھ باراک پور میں اسکی رہائش پر پہنچے تو دونوں نے دروازہ کھولنے سے انکار کر دیا۔خاتون نے شوہر کو چیلنج کیا کہ وہ جو چاہے کر لے اور طلاق کیلیے درخواست دینے کی دھمکی دی۔ شوہر، سسر، ساس اور بچوں کی درخواستوں کے باوجود خاتون باہر نہیں نکلی۔واضح رہے کہ بھارت میں 1994 سے انسانی اعضا کی فروخت غیر قانونی ہے، لیکن ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ عطیہ دہندگان کی کمی کے باعث اعضا کی فروخت اب بھی جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…