بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

میری پیش گوئی سچ ثابت ہوئی‘ سردار ایاز صادق

datetime 13  اکتوبر‬‮  2015 |

ؒلاہور(نیوزڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے نو منتخب رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ میں نے تین ہفتے قبل ہی کہہ دیا تھاکہ عمران خان نتائج کو تسلیم نہیں کرینگے ، یہ دوہرا معیار نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کو پی پی 147سے کامیابی ملے تو وہ ٹھیک ہے این اے 122 سے ہار گئے تو دھاندلی ہو گئی ،عمران خان اور علیم خان کو اکٹھے شکست دینے کے ساتھ جماعت اسلامی ،عوامی تحریک ،عوامی مسلم لیگ سمیت انکی حمایت کئی جماعتوں کو بھی شکست دی ، مصروفیت کے باعث ضمنی انتخاب کے نتائج کا تفصیلی جائزہ نہیں لے سکا ،2002،2008، 2013 اورحالیہ انتخاب کے نتائج کا جائزہ لے کر اپنی کمی کوتاہیاں دور کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیروز پور روڈ پر واقع دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر حافظ میاں نعمان اور چوہدری اختر رسول بھی موجود تھے ۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ اپنے حلقے کے عوام اور کارکنوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوںجنہوں نے مجھے دوبارہ منتخب کیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلم لیگ (ن) کو فتح دی ۔ ضمنی انتخاب کے نتیجے سے 56ہزار ووٹوں کی دھاندلی کا الزام ختم ہو گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں حکومت نے جو منصوبے شروع کئے ہیں انکی تکمیل میں وقت لگے گا لیکن اس کے باوجود عوام نے مجھے کامیاب کرا کے حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے دوستوں اگر وہ مجھے دوست سمجھتے ہیں تو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اب انا چھوڑ دیں اور پاکستان کی بات کریں ۔ اگر ہم مل جائیں تو پاکستان میں سرمایہ کاری بھی آ سکتی ہے ، بجلی ،گیس کی لوڈ شیڈنگ جیسے سب مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں ۔ عمران خان سے گزارش ہے کہ نوجوانوں کو وہ تربیت دیں جو وہ اپنے بچوں کو دینا چاہتے ہیں جس میں بڑوں کی عزت اور بچوں سے شفقت کرنا شامل ہے ۔ میری ان سے درخواست ہے کہ سخت زبان استعمال کرنا چھوڑ دیں ، قائدین کے بارے میں نا زیبا الفاظ استعمال کرنا مناسب نہیں ہے ۔ اگر دھرنے اور دھاندلی دھاندلی کی سیاست جاری رہے گی تو اس سے سرمایہ کاری کو لانے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مدد نہیں ملے گی ۔ چین کی سرمایہ کاری کو دیکھتے ہوئے دوسرے ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے ۔ آﺅ پاکستان کی بات کرتے ہیں اور یہ صرف (ن) لیگ کی نہیں بلکہ پوے پاکستان اور عمران خان کی بھی جیت ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخاب میں فتح سے ثابت ہو گیا کہ عام انتخابات میں این اے 122میں دھاندلی نہیں ہوئی تھی اور 56ہزار ووٹوں کی دھاندلی کا الزام بھی ختم ہو گیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان کو اب دوہرا معیار چھوڑ دینا چاہیے ۔ پی پی 147سے جیتیں تو سب ٹھیک ہے لیکن اگر این اے 122سے ہار جائیں تو دھاندلی ہو گئی حالانکہ ووٹر لسٹیں ایک ہی ہوتی ہیں۔ یہ صرف نظام کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش ہے جو کامیاب نہیں ہو گی ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…