ؒلاہور(نیوزڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے نو منتخب رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ میں نے تین ہفتے قبل ہی کہہ دیا تھاکہ عمران خان نتائج کو تسلیم نہیں کرینگے ، یہ دوہرا معیار نہیں ہے کہ پی ٹی آئی کو پی پی 147سے کامیابی ملے تو وہ ٹھیک ہے این اے 122 سے ہار گئے تو دھاندلی ہو گئی ،عمران خان اور علیم خان کو اکٹھے شکست دینے کے ساتھ جماعت اسلامی ،عوامی تحریک ،عوامی مسلم لیگ سمیت انکی حمایت کئی جماعتوں کو بھی شکست دی ، مصروفیت کے باعث ضمنی انتخاب کے نتائج کا تفصیلی جائزہ نہیں لے سکا ،2002،2008، 2013 اورحالیہ انتخاب کے نتائج کا جائزہ لے کر اپنی کمی کوتاہیاں دور کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیروز پور روڈ پر واقع دفتر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر حافظ میاں نعمان اور چوہدری اختر رسول بھی موجود تھے ۔سردار ایاز صادق نے کہا کہ اپنے حلقے کے عوام اور کارکنوں کا تہہ دل سے شکر گزار ہوںجنہوں نے مجھے دوبارہ منتخب کیا اور اللہ تعالیٰ نے مسلم لیگ (ن) کو فتح دی ۔ ضمنی انتخاب کے نتیجے سے 56ہزار ووٹوں کی دھاندلی کا الزام ختم ہو گیا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی قیادت میں حکومت نے جو منصوبے شروع کئے ہیں انکی تکمیل میں وقت لگے گا لیکن اس کے باوجود عوام نے مجھے کامیاب کرا کے حکومت کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے دوستوں اگر وہ مجھے دوست سمجھتے ہیں تو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ اب انا چھوڑ دیں اور پاکستان کی بات کریں ۔ اگر ہم مل جائیں تو پاکستان میں سرمایہ کاری بھی آ سکتی ہے ، بجلی ،گیس کی لوڈ شیڈنگ جیسے سب مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں ۔ عمران خان سے گزارش ہے کہ نوجوانوں کو وہ تربیت دیں جو وہ اپنے بچوں کو دینا چاہتے ہیں جس میں بڑوں کی عزت اور بچوں سے شفقت کرنا شامل ہے ۔ میری ان سے درخواست ہے کہ سخت زبان استعمال کرنا چھوڑ دیں ، قائدین کے بارے میں نا زیبا الفاظ استعمال کرنا مناسب نہیں ہے ۔ اگر دھرنے اور دھاندلی دھاندلی کی سیاست جاری رہے گی تو اس سے سرمایہ کاری کو لانے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں مدد نہیں ملے گی ۔ چین کی سرمایہ کاری کو دیکھتے ہوئے دوسرے ممالک بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے ۔ آﺅ پاکستان کی بات کرتے ہیں اور یہ صرف (ن) لیگ کی نہیں بلکہ پوے پاکستان اور عمران خان کی بھی جیت ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخاب میں فتح سے ثابت ہو گیا کہ عام انتخابات میں این اے 122میں دھاندلی نہیں ہوئی تھی اور 56ہزار ووٹوں کی دھاندلی کا الزام بھی ختم ہو گیا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ عمران خان کو اب دوہرا معیار چھوڑ دینا چاہیے ۔ پی پی 147سے جیتیں تو سب ٹھیک ہے لیکن اگر این اے 122سے ہار جائیں تو دھاندلی ہو گئی حالانکہ ووٹر لسٹیں ایک ہی ہوتی ہیں۔ یہ صرف نظام کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش ہے جو کامیاب نہیں ہو گی ۔
میری پیش گوئی سچ ثابت ہوئی‘ سردار ایاز صادق
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کا اعلان کردیا
-
چچا کی جائیداد میں بھتیجوں کا حق وراثت نہیں، وفاقی آئینی عدالت کا اہم فیصلہ
-
آئی فون 18 پرو اور پرو میکس میں بڑی خرابی، ایپل کا صارفین کے لیے بڑا اعلان
-
سرکاری ملازمین کی ہفتہ وار چھٹی ختم
-
ملک بھر میں شدید بارشوں کا الرٹ جاری، سیلاب کا خدشہ
-
ہونڈا اور ٹویوٹا نےگاڑیوں کی قیمتوںمیں کمی کر دی ،بعض ماڈلز 5 لاکھ 70 ہزار روپے تک سستے
-
شدید بارشوں کی پیشگوئی، این ڈی ایم اے کا بڑا الرٹ جاری
-
عوام کیلئے بڑی خبر، اسٹیٹ بینک نے انعامات دینے کا اعلان کر دیا
-
نوکری کا جھانسہ دے کر 13سالہ نوجوان لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا
-
پی ٹی آئی سیاسی کمیٹی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
-
صحت بہتر ہونے کی 7 عام علامات
-
پاکستانیوں کے لیے امریکی ویزا سے متعلق اہم سہولت، نیا آن لائن نظام متعارف
-
دو اوباش ہمسائے لڑکوں کی 14 سالہ لڑکے کے ساتھ زیادتی



















































