جمعرات‬‮ ، 23 جولائی‬‮ 2026 

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کی چئیرپرسن کا اپنا ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف

datetime 22  جنوری‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کی چئیرپرسن سینیٹر پلوشہ خان نے اپنا ڈیٹا چوری ہونے کا انکشاف کیا ہے۔سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اجلاس میں چئیرپرسن سینیٹر پلوشہ خان نے بتایا کہ میرا ڈیٹا چوری کیا گیا اور مجھے مالی نقصان پہنچایا گیا، میں نے ڈیٹا چوری کی درخواست ایف آئی اے کو دے دی ہے۔سینیٹر پلوشہ خان نے بتایا کہ میں نے ایک ایپ سے بچوں کے لیے سامان منگوایا تھا جس پر میرا ڈیٹا چوری کرلیا گیا۔

اجلاس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی نے ڈیٹا پروٹیکشن بل پر پبلک ہیئرنگ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ پرائیویٹ ممبر بل کے معاملے پر سینیٹر افنان اللہ نے احتجاج کیا۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ میرے بلز منظور نہ ہوں تو کوئی بھی بل منظور نہیں ہونا چاہیے، جب بھی میرا بل آتا ہے وزارت آئی ٹی کا یہی رویہ ہوتا ہے۔ایڈیشنل سیکرٹری وزارت آئی ٹی نے کہا کہ حکومت کی نئی قانون سازی پالیسی کے تحت جس بل میں پیسوں کا معاملہ آئے گا حکومت موو کرے گی۔ چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ حکومت ہمیں بلز سے نہیں روک سکتی۔حکام وزارت آئی ٹی نے بتایا کہ ڈیٹا پروٹیکشن بل پر مشاورت چل رہی ہے، جس پر سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ کون سا مشاورتی عمل ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔

ممبر وزارت آئی ٹی نے کہا کہ اسٹیک ہولڈرز کی کچھ تجاوزیر آئی تھیں وہ شامل کی گئی ہیں۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ وفاقی کابینہ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کی منظوری دے چکی ہے۔ممبر لیگل وزارت آئی ٹی نے کہا کہ حکومت نے 2022 میں اس بل کی منظوری دی تھی، اس بل کی اب دوبارہ ان پرنسپل منظوری لی جائے گی۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ اب یہی کام رہ گیا ہے کہ وزارت آئی ٹی کو بند کر دیں، وزارت آئی ٹی اپنا کام دوسروں کو دے رہی ہے، آپ ہمیں یہ بتا رہے ہیں پرائیویٹ ممبر اب نہیں آسکتا۔پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ہمایوں مہمند نے مشورہ دیا کہ آپ سینیٹر افنان اللہ کے ڈیٹا پروٹیکشن بل حکومتی بل کے ساتھ ملا لیں۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ میں نے مہینوں لگا کر ورچوئل ایسٹ بل بنایا، مجھے اس ورچوئل ایسٹ بل کو پیش کرنے سے روک دیا گیا، یہ آمرانہ سوچ ہے اگر یہی کرنا ہے تو پارلیمنٹ کو بند کر دیں۔

چیئرپرسن کمیٹی نے کہا کہ آن لائن ایپ سے میرا ڈیٹا چوری کیا گیا، مجھے ٹھگا گیا۔ سینیٹر انوشے رحمن نے کہا کہ لوگوں کا ڈیٹا چوری ہو رہا ہے اور یہ سنجیدہ ہی نہیں، بین الاقوامی کمپنیاں ڈیٹا پروٹیکشن کی وجہ سے پاکستان نہیں آرہیں۔سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ وزارت قانون آرٹیکل 74 کا حوالہ دے کر پرائیویٹ ممبر بل کو ختم کر رہی ہے، میں اس معاملے پر تحریک استحقاق لاؤں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…