بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کو سپورٹ دینے والوں کو سوچنا چاہیے یہ لوگ لے ڈوبیں گے، شیخ رشید

datetime 24  دسمبر‬‮  2024 |

راولپنڈی (این این آئی)عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ حکومت کو سپورٹ دینے والوں کو سوچنا چاہیے، یہ لوگ انہیں لے ڈوبیں گے۔انسداد دہشت گردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ میں نے تو 40 دن کا چلہ کاٹا ہے، پھر 2 بار سسرال بھی گیا، (جیل) ، مذاکرات کرنے چاہییں، انتقام کی طرف نہیں جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جیلوں کے دروازے کھولے جائیں اور جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور جو غریب لوگ جیلوں میں ہیں، انہیں نکال دیا جائے۔

ایسا ماحول پاکستان کے خلاف بن رہا ہے کہ شاید پاکستان معیشت اور سرمایہ کاری کے بہت بڑے بحران میں داخل ہو جائے گا۔ پاکستان معیشت اور سرمایہ کاری سے تباہی کی جانب جا رہا ہے۔شیخ رشید کا کہنا تھا کہ عام آدمی سے پوچھیں اسٹاک ایکسچینج سیاست کی اسٹاک ایکسچینج ہے۔ کسی ریڑھی والے یا کسی گھر سے پوچھیں وہ بتائیں گے۔ میرا ایک بندے سے تعلق ہے، وہی نبھانے کی کوشش کررہا ہوں، باقی نہ میں پی ٹی آئی میں ہوں، جو پوچھنا ہے ان کے لیڈرز سے پوچھیں۔سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ اتنے کیسز بنا دیے گئے ہیں کہ زندگی سے اکتاہٹ ہونے لگی ہے۔

میری اصل حکمرانوں سے درخواست ہے کہ گیٹ کھول دیں، قیدیوں کو رہا کریں اور جوڈیشل کمیشن بنا دیں۔ سب لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ جیلوں کے دروازے کھلیں، بے چارے غریب لوگوں کو سزا ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ قوم کو پتا چلنا چاہیے کہ پی ٹی آئی کی کیا سوچ ہے اور حکومت کہاں پھنسی ہوئی ہے۔ حکومتیں معافی دیتی ہیں۔ اس حکومت کے ساتھ نہ عوام ہیں نہ کوئی سپورٹ ہے اور جو سپورٹ ہے انہیں بھی سوچنا چاہیے کہ یہ لوگ لے ڈوبیں گے۔انہوں نے کہا کہ آئندہ ہفتوں بعض اہم فیصلے کرنے ہوں گے ورنہ عالمی دباؤ ہمارے خلاف نہیں حکومت کے خلاف زیادہ بڑھ جائے گا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…