اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

8 بیٹیوں کا باپ اپنے سابق داماد کے ہاتھوں فائرنگ سے قتل

datetime 6  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

کرچی(این این آئی)شہر قائد میں 8 بیٹیوں کے باپ کو اس کے سابق داماد نے گھر کے باہر فائرنگ کرکے قتل کردیا۔ پولیس کے مطابق مومن آباد تھانے کے علاقے میٹروول ضیا کالونی سوات چوک کے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل کردیا گیا۔ مقتول کی لاش قانونی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال منتقل کی گئی جہاں اس کی شناخت 60سالہ محمد پرویزخان ولد شاہجہاں کے نام سے کی گئی۔ مقتول پرویز 8 بیٹیوں کا باپ اور نجی گارمنٹس فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا۔ ایس ایچ اومومن آباد شہبازیوسف نے بتایاکہ مقتول پرویز کو اس کے سابقہ داماد صاحب زادہ نے گھر کے سامنے فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ہے۔

فائرنگ کے واقعے کے بعد ملزم صاحب زادہ موقع پر سے فرارہو گیا۔ملزم نے مقتول کی بیٹی کو 2سال قبل طلاق دے دی تھی، جس کے بعد مقتول نے اپنی بیٹی کی کہیں اورشادی کردی تھی جب کہ ملزم کا کہنا تھا کہ اس نے طلاق نہیں دی تھی۔ کچھ عرصے سے مقتول اورملزم کے درمیان لڑائی جھگڑے چل رہے تھے۔ مقتول کو ایک گولی لگی جوجان لیوا ثابت ہوئی۔ جائے وقوع سے 30 بور پستول کا ایک خول ملا ہے، جسے پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا۔ پولیس نے واقعے کی تفتیش اورملزم کی تلاش شروع کردی ہے۔

مقتول کے رشتہ داروں نے بتایاکہ مقتول پرویزنے کچھ سال قبل اپنی بیٹی کی شادی صاحب زادہ سے کی تھی، تاہم گھریلو جھگڑوں کے باعث بیٹی کووالد نے گھر پر رکھ لیا تھا۔ بار بار صاحب زادہ کو سمجھایا لیکن وہ بیوی کو لینے نہیں آیا اور نہ اس کی کوئی خیرخبر لی۔ والد نے عدالت سے رجوع کیا اورصاحب زادہ سے علیحدگی ہو گئی۔ کچھ سال قبل پرویز نے بیٹی کی شادی دوسری جگہ کردی۔ مقتول کی بیٹی کے صاحب زادہ سے 3 اور دوسرے شوہرسے ایک بچہ ہے۔ شادی کا ملزم کو معلوم ہوا توسب کوجان سے مارنے کی دھمکیاں شروع کردیں۔ مومن آباد پولیس کو اطلاع دی تومقدمے کے بجائے درخواست دینے کو کہا گیا۔ پولیس کے مطابق مقتول اورملزم کا تعلق سوات سے تھا اورکیس بھی وہیں چل رہا تھا۔ ملزم نے ایک ہی گولی مقتول کے سرمیں ماری، ملزم گھات لگائے مقتول کا انتظار کررہا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…