منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

حج اخراجات اب قسطوں میں، وزارتِ مذہبی امور کی تجویز سامنے آگئی

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)حکومت نے حج پر جانے کا ارادہ رکھنے والے کم آمدنی والے اور متوسط طبقے کے شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ایک نیا اقدام تجویزکر دیا۔وزارت مذہبی امور نے غریب و متوسط افراد سے حج اخراجات قسطوں میں لینے کی تجویز پیش کی ہے۔رپورٹ کے مطابق حج فیس قسطوں میں ادائیگی کی تجویز کابینہ کو بھیج دی گئی ہے، وزارتِ مذمبی امور کی تیار کردہ حج پالیسی کی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ حج پر جانے والے افراد سے اخراجات کی اقساط میں وصولی کی تجویز حج پالیسی میں شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق عازمین حج کو 11 لاکھ روپے تین اقساط میں ادا کرنے کی سہولت ہوگی۔ ادائیگی کے مجوزہ ڈھانچے کے تحت ممکنہ عازمین کو حج کے لیے درخواست دینے کے لیے ابتدائی طور پر دو لاکھ روپے جمع کرانے ہوں گے۔ قرعہ اندازی میں نام آنے کے بعد انہیں 4 لاکھ روپے اضافی ادا کریں گے، باقی رقم روانگی سے پہلے ادا کی جائے گی۔وزارت مذہبی امور کے عہدیداروں نے بتایا کہ قسط کا مذکورہ حج پالیسی کم اور درمیانی آمدنی والے طبقوں کو مالی ریلیف فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ وزارت نے اس بات پر زور دیا کہ اس تبدیلی کا مقصد ان گروہوں کے لیے حج کو مزید قابل رسائی بنانا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…