جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

داعشی بلڈوزر شہریوں پر رعب جمانے کا ذریعہ

datetime 10  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر قابض انتہا پسند گروپ دولت اسلامیہ داعش اپنی سفاکیت اور عام شہریوں پر خوف طاری کرنے کے لیے نہایت ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کرتی چلی آرہی ہے۔ حال ہی میں برطانوی اخبار “ڈیلی میل” نے داعش کے ایک بھاری بھرکم اور فربہ جنگجو کی تصاویر جاری کی ہیں جسے داعش کے ہاں عرف عام میں ‘بلڈوزر’ کہا جاتا ہے۔ داعش اسے عراقی شہریوں اور بچوں کو تنظیم میں شامل کرنے کی خاطر ورغلانے اور داعش سے دور رہنے والوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق “داعشی بلڈوزر” نامی دہشت گرد اپنی جسمامت اور قد کاٹھ میں کسی بھاری بھرکم ریسلر سے کم نہیں مگرمگر اس کی نقاب پوشی اس کی بزدلی کی گواہی دیتی ہے کیونکہ اسے جب بھی یرغمال بنائے گئے شہریوں کی گردنیں اڑاتے دیکھا گیا اس نے اپنا چہرہ سیاہ کپڑے سے ڈھانپ رکھا ہے۔ مخالفین کو قتل کرنے والے داعشی جلادوں کا یہ عام وتیرہ ہے کہ وہ کیمرے کے سامنے آنے سے قبل ہی اپنے چہرے ڈھانپ لیتے ہیں تاکہ ان کی شناخت نہ کی جاسکے۔ داعشی بلڈوز کے ایک دوسرے دہشت گرد ساتھی محمد اموازی المعروف جہادہ جون جو داعش کا جلاد مشہور ہے بھی اپنے چہرے کو ڈھانپ پر لوگوں کی گردنیں اتارتا رہا ہے۔ایک ہفتہ قبل 14 سالہ ایک شامی لڑکے کا انٹرویو سامنے آیا۔ شام کے ٹی وی 4 کو انٹریو دیتے ہوئے لڑکے نے بتایا کہ وہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک “داعشی بلڈوزر” کے ظلم وستم کا شکار رہا ہے۔ داعشی جنگجو اسے داعش میں شامل ہونے کے لیے دباﺅ ڈالتا، اس کے انکار پر تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔عمر نامی اس شامی لڑکے نے بتایا کہ جب اس نے “داعش” میں بھرتی ہونے سے انکار کیا تو داعشی بلڈوزر نے بچوں اور بڑی عمر کے شہریوں کا ایک مجمع اکھٹا کیا۔ ان کے سامنے میرا دایاں ہاتھ اور بایاں پاﺅں باندھا۔ اس کے بعد اس کا ہاتھ اور پاﺅں لکڑے کے ایک بلاک پر رکھے اور تلوار سے ہاتھ اورپاﺅں کو کاٹ دیا۔ یہ سارا منظرآس پاس جمع کردہ بچوں کو بھی دکھایا گیا تاکہ وہ داعش کے ہاتھوں خوف کا شکارہوں۔عمر داعشی بلڈوزر کو پہچان تو نہیں سکا تاہم اس نے اپنے موبائل فون میں اس کی نقاب پوش حالت میں تصویر محفوظ کرلی تھی۔یاد رہے کہ عمر شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف سرگرم اعتدال پسند اپوزیشن کے ساتھ کام کرتا رہا ہے۔ کچھ عرصہ قبل اسے داعشی جنگجوﺅں نے یرغمال بنا لیا تھا۔داعشی بلڈوزر پہلی بار جون 2014ئ میں منظرعام پر آیا۔ اس کی پہلی تصویر میں اسے ایک 52 کلو وزنی مشین گن اور بلٹ پروف آرمر کو توڑنے کے لیے استعمال ہونے والی گولیوں کا ایک پٹا اٹھائے دکھایا گیا تھا۔ایک دوسری تصویر میں اسے دو مشتبہ افراد کی گردنیں اڑاتے بھی دکھایا گیا ہے۔ یہ تصاویر عراق کے الانبار گورنری میں لی گئی تھیں۔ مغویوں کے قتل کے وقت بڑی تعداد میں شہریوں کو بھی قریب کھڑے کر کے انہیں خوف زدہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…