اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

دکی،شہید مزدوروں کے ورثا کوفی کس 15لاکھ دینے کا اعلان

datetime 12  اکتوبر‬‮  2024 |

دکی (این این آئی)بلوچستان کے علاقے دکی میں گزشتہ روز کوئلہ کانوں پر مسلح افراد کے حملے میں 21 کان کن جاں بحق اور 7 زخمی ہوگئے جبکہ حملہ آوروں نے 10 کوئلہ کانوں کے انجن بھی آگ لگا کر نذر آتش کردیے۔ تاہم، حکومت نے شہید مزدوروں کے ورثا کو فی کس 15 لاکھ دینے کا اعلان کیا ہے۔

پولیس کے مطابق دکی میں کوئلے کی کانوں پر مسلح افراد کے حملے میں سول سیکیورٹی اہلکار اجمل بھی شہید ہوگیا، جس کے بعد واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 21 ہوگئی۔پولیس کا کہنا ہے کہ شہید اجمل کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے، شہید اجمل کی نماز جنازہ ایف سی چھاونی دکی میں ادا کردی گئی۔اس سے قبل دکی میں جمعرات کی شب شہر سے مغرب کی جانب 7 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جیند کول کمپنی میں واقع ڈسٹرکٹ چینرمین دکی حاجی خیر اللہ ناصر کے کوئلہ کانوں پر مسلح افراد نے حملہ کیا، رات گئے حملہ 11.45 پر کیا گیا۔

ایس ایچ او دکی ہمایوں خان ناصر کے مطابق حملے میں کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے 20 مزدور جاں بحق جبکہ 7 زخمی ہوگئے۔ڈسٹرکٹ چیئرمین حاجی خیر اللہ ناصر کے مطابق جیند کول کمپنی میں واقع میرے ذاتی کوئلہ کانوں پر مسلح افراد نے حملہ کیا، مسلح افراد نے 10 کوئلہ کانوں کے انجن بھی پیٹرول چھڑک کر نذر آتش کیے جبکہ حملے میں بھاری اسلحہ، راکٹ لانچر اور ہینڈ گرینڈ بھی استعمال کیے گئے۔جاں بحق مزدوروں کو مختلف کوئلہ کانوں سے ٹولیوں کی شکل میں یکجا کرکے فائرنگ کی گئی، مرنے والے مزدوروں میں سے 2 کا تعلق افغانستان، 3 کا پشین، ایک کا کچلاک، 4 کا قلعہ سیف اللہ، 4 کا ڑوب اور ایک کا لورالائی سے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…