اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

گھر میں ویگو ڈالے آگئے، بندہ اٹھا لیا مگر ایس ایچ او سمیت کسی کو پتا ہی نہیں، جسٹس بابر ستار

datetime 4  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتا عثمان فیضان کی بازیابی کیس میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کو حساس ادارے سے رابطہ کرنے کا حکم دے دیا ہے، دوران سماعت جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے ہیں کہ گھر میں ویگو ڈالے آ گئے، بندہ اٹھا لیا مگر اسٹیشن ہاؤس افسر ( ایس ایچ او) سمیت کسی کو پتا ہی نہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے شہر اقتدار سے لاپتا نوجوان فیضان عثمان کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے، درخواست گزار کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ جبکہ وفاق سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر آئی جی اسلام آباد نے مؤ قف اپنایا کہ میں نے لاپتا فیضان کے والد کے ساتھ آدھا گھنٹہ گزارا، فیضان کی لوکیشن پہلے اسلام آباد اور 17 اگست کو لاہور کی آئی، ہم نے فوٹیجز دیکھی ہیں، ایک فوٹیج میں کچھ لوگوں کے چہروں پر ماسک ہیں، دوسری فوٹیج میں نظر آنے والے لوگوں کے چہرے واضح نہیں ہیں، تاہم گاڑیاں واضح نظر آ رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع کو گاڑیوں سے متعلق معلومات کے لیے لکھا ہے، سیف سٹی کا ریکارڈ ایک ماہ کا ہوتا ہے، اس واقعے کو دو ماہ ہو چکے، ہمیں جائے وقوعہ کے پاس فیکٹریوں کو چیک کرنا پڑے گا اگر وہاں کہیں سے فوٹیج مل جائے تو۔آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ عثمان کے والد نے کہا ہے کہ ان کے داماد 3 جولائی سے لاہور سے لاپتا ہیں مگر وہاں کوئی ایف آئی آر نہیں ہے، واٹس ایپ ٹریکنگ کے لیے ہم نے ایف آئی اے، پی ٹی اے اور سی ٹی ڈی لاہور کو لکھا ہے۔

اس موقع پر عدالت نے آئی جی استفسار کیا کہ الزام حساس ادارے پر ہے، تو کیا آپ نے وہاں سے کچھ پوچھا؟ آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ ہم نے وزارتِ دفاع سے رابطہ کیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ حساس ادارے سے رابطہ کریں، وہ وزارتِ دفاع کے نہیں بلکہ براہ راست وزیراعظم کے ماتحت ہیں، ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ لوگوں کو اٹھانے کا سلسلہ بغیر کسی خوف کے جاری ہے، شہریوں کا تحفظ پولیس کی ذمہ داری ہے، اگر آپ ناکام ہوں گے تو شہری عدالتوں کے پاس آئیں گے۔جسٹس بابر ستار نے کہا کہ گھر میں ویگو ڈالے آ گئے، بندہ اٹھا لیا، ایس ایچ او سمیت کسی کو پتا ہی نہیں، ہم سب کو پتا ہے کہ یہ سب کس طرح سے ہوتا ہے، میں آپ کو پیر تک کا وقت دیتا ہوں، آئندہ سماعت پر حتمی رپورٹ کے ساتھ پیش ہو

ں۔اس پر آئی جی اسلام آباد نے استدعا کی کہ پیر کے بجائے منگل تک کا وقت دے دیا جائے، عدالت نے کہا ٹھیک ہے، اگر پولیس کو کسی سے بھی معاونت کی ضرورت ہو تو لے سکتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…