پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

گھر میں ویگو ڈالے آگئے، بندہ اٹھا لیا مگر ایس ایچ او سمیت کسی کو پتا ہی نہیں، جسٹس بابر ستار

datetime 4  ستمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے لاپتا عثمان فیضان کی بازیابی کیس میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کو حساس ادارے سے رابطہ کرنے کا حکم دے دیا ہے، دوران سماعت جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے ہیں کہ گھر میں ویگو ڈالے آ گئے، بندہ اٹھا لیا مگر اسٹیشن ہاؤس افسر ( ایس ایچ او) سمیت کسی کو پتا ہی نہیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے شہر اقتدار سے لاپتا نوجوان فیضان عثمان کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے، درخواست گزار کی جانب سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ جبکہ وفاق سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر آئی جی اسلام آباد نے مؤ قف اپنایا کہ میں نے لاپتا فیضان کے والد کے ساتھ آدھا گھنٹہ گزارا، فیضان کی لوکیشن پہلے اسلام آباد اور 17 اگست کو لاہور کی آئی، ہم نے فوٹیجز دیکھی ہیں، ایک فوٹیج میں کچھ لوگوں کے چہروں پر ماسک ہیں، دوسری فوٹیج میں نظر آنے والے لوگوں کے چہرے واضح نہیں ہیں، تاہم گاڑیاں واضح نظر آ رہی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ دفاع کو گاڑیوں سے متعلق معلومات کے لیے لکھا ہے، سیف سٹی کا ریکارڈ ایک ماہ کا ہوتا ہے، اس واقعے کو دو ماہ ہو چکے، ہمیں جائے وقوعہ کے پاس فیکٹریوں کو چیک کرنا پڑے گا اگر وہاں کہیں سے فوٹیج مل جائے تو۔آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ عثمان کے والد نے کہا ہے کہ ان کے داماد 3 جولائی سے لاہور سے لاپتا ہیں مگر وہاں کوئی ایف آئی آر نہیں ہے، واٹس ایپ ٹریکنگ کے لیے ہم نے ایف آئی اے، پی ٹی اے اور سی ٹی ڈی لاہور کو لکھا ہے۔

اس موقع پر عدالت نے آئی جی استفسار کیا کہ الزام حساس ادارے پر ہے، تو کیا آپ نے وہاں سے کچھ پوچھا؟ آئی جی اسلام آباد نے جواب دیا کہ ہم نے وزارتِ دفاع سے رابطہ کیا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ حساس ادارے سے رابطہ کریں، وہ وزارتِ دفاع کے نہیں بلکہ براہ راست وزیراعظم کے ماتحت ہیں، ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ لوگوں کو اٹھانے کا سلسلہ بغیر کسی خوف کے جاری ہے، شہریوں کا تحفظ پولیس کی ذمہ داری ہے، اگر آپ ناکام ہوں گے تو شہری عدالتوں کے پاس آئیں گے۔جسٹس بابر ستار نے کہا کہ گھر میں ویگو ڈالے آ گئے، بندہ اٹھا لیا، ایس ایچ او سمیت کسی کو پتا ہی نہیں، ہم سب کو پتا ہے کہ یہ سب کس طرح سے ہوتا ہے، میں آپ کو پیر تک کا وقت دیتا ہوں، آئندہ سماعت پر حتمی رپورٹ کے ساتھ پیش ہو

ں۔اس پر آئی جی اسلام آباد نے استدعا کی کہ پیر کے بجائے منگل تک کا وقت دے دیا جائے، عدالت نے کہا ٹھیک ہے، اگر پولیس کو کسی سے بھی معاونت کی ضرورت ہو تو لے سکتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 10 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…