بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

نجکاری کیلئے صرف مشاورت پر 1 ارب 99 کروڑ روپے خرچ کردیے گئے

datetime 29  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومت نے صرف یہ جاننے کیلئے کہ کسی ادارے کی نجکاری ہو سکتی یا نہیں اس پر 1 ارب 99 کروڑ روپے خرچ کردیے اور پھر نجکاری کا مشورہ ملنے کے بعد اس پر عمل بھی نہیں کیا۔سینیٹر محمد طلال چوہدری کی زیر صدارت سینیٹ کی نجکاری کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں گزشتہ 5 سالوں میں نجکاری کے عمل پر آنے والے اخراجات اور آمدن پر بریفنگ دی گئی۔سیکرٹری نجکاری نے بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ پانچ سال میں نجکاری ٹرانزیکشنز سے 4 ارب 38 کروڑ روپے آمدن حاصل ہوئی، جبکہ نجکاری پر اس دوران 1 ارب 40 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، آپریشنل اخراجات ملا کر مجموعی رقم 1 ارب 99 کروڑ روپے خرچ ہوئی۔

سیکریٹری نجکاری نے بتایا کہ نیشنل پاور پارک کمپنی کو نجکاری لسٹ سے نکال دیا گیا، نیشنل پاور پارک کمپنی کی نجکاری کیلئے 33 کروڑ روپے فنانشل ایڈوائزر کو دیے گئے، پاکستان اسٹیل ملز کو بھی نجکاری کی فہرست سے نکال دیا گیا، اسٹیلز ملز کیلئے تین سالوں میں فنانشل ایڈوائزر کو 12 کروڑ 70 لاکھ روپے ادائیگی ہوئی، جناح کنونشن سینٹر کو بھی نجکاری کی لسٹ سے نکال دیا گیا، جناح کنونشن سینٹر پر فنانشل ایڈوائزر کو 70 لاکھ روپے پیمنٹ ہوئی۔رکن کمیٹی سینیٹر بلال احمد نے پوچھا کہ نجکاری کیلئے فنانشنل ایڈوائزر ہائر کیوں کیا جاتا ہے؟سیکریٹری نجکاری ڈویژن نے جواب دیا کہ فنانشل ایڈوائزر بتاتا ہے کہ ادارے کی نجکاری ہو سکتی یا نہیں۔

چیئرمین کمیٹی طلال چوہدری نے پوچھا کہ اتنا خرچہ کرکے پھر نجکاری کیوں روک دی گئی؟سیکرٹری نجکاری نے جواب دیا کہ حکومت نے ہی بعد میں اس کمپنی کی نجکاری نہ کرنے کا فیصلہ کیا ، گزشتہ سال کابینہ نے اسٹیل ملز کو ڈی لسٹ کر دیا تھا، سٹیل ملز کی نجکاری نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ صرف ایک بڈر رہ گیا تھا، حکومت کا خیال تھا کہ ایک بڈر کے ساتھ جانا ٹھیک نہیں رہے گا، جناح کنونشن سینٹر کی نجکاری پر سی ڈی اے کے کچھ اعتراضات تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…