اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

توانائی کے شعبے میں 45 کھرب روپے کی لیکیج کا انکشاف

datetime 27  اگست‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی )آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی)نے توانائی کے شعبے میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کے الیکٹرک سمیت دیگر ڈسٹریبیوشن کمپنیوں سے عدم وصولی کا انکشاف کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 45کھرب روپے کے نقصان کا باعث بننے والی خرابیوں، درجنوں حکمت عملیوں کا تذکرہ کیا جس نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ میں احتسابی عمل کے فقدان اور ناقص اصلاحاتی اقدامات پر تشویش کا اظہار بھی کیا ہے۔

اکائونٹس آف پاور ڈویژن اور اس سے منسلک آرگنائزیشنز کی آڈٹ رپورٹ 2024 -2023 میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے 42 صفحات جاری کیے، جن میں وفاقی حکومت کے اداروں میں آڈٹ کے اعتراضات، رقم کی وصولی، زائد ادائیگیوں، ناقص اثاثوں اور معاشی منیجمنٹ، چوری، فراڈ کا تذکرہ کیا گیا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاور ڈویژن کہ پاور کمپنیوں کے مالیاتی ایجنٹ کے طور پر کام کرنے والے سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)کو ماہانہ بنیادوں پر کسی بھی ڈسٹری بیوشن کمپنی (ڈسکو)کی جانب سے توانائی اور معاشی ڈویژنز کو بلوں کی وصولی میں ناکامی پر مناسب متبادل ایکشن فراہم کرنا ہوتا ہے تاہم سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے)کے آڈٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ کے الیکٹرک سمیت ڈسٹرییوشن کمپنیوں (ڈسکو)سے 25 کھرب روپے کی وصولی کی جا سکتی تھی تاہم سی پی پی اے آڈٹ نے انکشاف کیا کہ توانائی کی فروخت کی مد میں ڈسکوز بشمول کے الیکٹرک سے 25 کھرب کی جانی تھی۔

فنڈز کی اس بڑی رکاوٹ کی وجہ سے پاور سیکٹر سخت مالی بحران کا شکار ہے اور پروڈیوسروں کو ادائیگیوں میں تاخیر ہو رہی ہے، نتیجتا، بجلی پیدا کرنے والوں سے اوسط شرح سود 2فیصد سے اوسط شرح سود 4 فیصد تک ادائیگی میں تاخیر کا سرچارج وصول کیا جا رہا ہے۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر یہ بڑی رقم ڈسکوز سے وصول کی جاتی تو پاور

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…