جمعرات‬‮ ، 14 مئی‬‮‬‮ 2026 

روایتاکہاجاتاہے ایٹمی بٹن دبادونگا،حقیقت میں ایسی کوئی چیزوجود نہیں رکھتی ،بی بی سی

datetime 7  اکتوبر‬‮  2015 |

لندن (نیوزڈیسک) لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کہتے ہیں کہ وہ ایٹمی بٹن نہیں دبائیں گے لیکن بی بی سی کے صحافی جسٹن پارکنسن سوال کرتے ہیں کہ کیا واقعی کوئی ایسا بٹن موجود ہے؟ ایسا لگتاہے اوباما، پیوٹن، اولاند، کیمرون اور دوسرے تمام ایک بٹن کے ساتھ ہی بیٹھے ہیں جسے دبانے سے انکے ایٹمی ہتھیار حرکت میں آجائیں گے۔ بی بی سی کے پروگرام ’ٹودے‘ میں لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن سے سوال کیا گیا کہ اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو کیا کبھی اس بٹن کو دبائیں گے، تو انکا جواب تھا ’نہیں۔‘ لیکن انہیں اس بٹن کے بارے میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسا کوئی بٹن ہے ہی نہیں۔ دفاعی ماہر پال بیور کا کہنا ہے کہ ایٹمی میزائل چلانے کا حتمی فیصلہ وزیر اعظم (یا اسکی غیر موجودگی میں نامزد کردہ نائب) کا ہی ہوتا ہے، اسکو تکمیل تک پہنچنے کے لیے مختلف مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔ وزیراعظم فیصلہ کرتا ہے، لیکن اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے دوران مختلف مراحل پر اٹارنی جنرل اور جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ایسا کوئی تباہ کن بٹن موجود ہے لیکن ایسا صرف روایتاً کہاجاتا ہے کیونکہ اس مشینی دور میں خیال کیا جاتا ہے کہ ہر چیز ایک بٹن دبانے سے ہوجائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…