ہفتہ‬‮ ، 21 مارچ‬‮ 2026 

روایتاکہاجاتاہے ایٹمی بٹن دبادونگا،حقیقت میں ایسی کوئی چیزوجود نہیں رکھتی ،بی بی سی

datetime 7  اکتوبر‬‮  2015 |

لندن (نیوزڈیسک) لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کہتے ہیں کہ وہ ایٹمی بٹن نہیں دبائیں گے لیکن بی بی سی کے صحافی جسٹن پارکنسن سوال کرتے ہیں کہ کیا واقعی کوئی ایسا بٹن موجود ہے؟ ایسا لگتاہے اوباما، پیوٹن، اولاند، کیمرون اور دوسرے تمام ایک بٹن کے ساتھ ہی بیٹھے ہیں جسے دبانے سے انکے ایٹمی ہتھیار حرکت میں آجائیں گے۔ بی بی سی کے پروگرام ’ٹودے‘ میں لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن سے سوال کیا گیا کہ اگر وہ وزیراعظم بن گئے تو کیا کبھی اس بٹن کو دبائیں گے، تو انکا جواب تھا ’نہیں۔‘ لیکن انہیں اس بٹن کے بارے میں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ ایسا کوئی بٹن ہے ہی نہیں۔ دفاعی ماہر پال بیور کا کہنا ہے کہ ایٹمی میزائل چلانے کا حتمی فیصلہ وزیر اعظم (یا اسکی غیر موجودگی میں نامزد کردہ نائب) کا ہی ہوتا ہے، اسکو تکمیل تک پہنچنے کے لیے مختلف مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔ وزیراعظم فیصلہ کرتا ہے، لیکن اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے دوران مختلف مراحل پر اٹارنی جنرل اور جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین بھی شامل ہوتے ہیں۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ایسا کوئی تباہ کن بٹن موجود ہے لیکن ایسا صرف روایتاً کہاجاتا ہے کیونکہ اس مشینی دور میں خیال کیا جاتا ہے کہ ہر چیز ایک بٹن دبانے سے ہوجائیگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)


برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…