ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

جس رات آیت الکرسی پڑھنا بھولا، اسی رات والد انتقال کرگئے تھے،محمود اسلم

datetime 27  جولائی  2024 |

کراچی(این این آئی)پاکستانی شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار محمود اسلم اپنے والدین اور پہلی بیٹی کے انتقال کو یاد کرکے رو پڑے۔حال ہی میں محمود اسلم نے نجی ٹی وی چینل کے شو میں بطورِ مہمان شرکت کی جہاں انہوں نے اپنی زندگی کے مشکل ترین اور تلخ دنوں کو یاد کیا۔محمود اسلم نے کہا کہ میرے ہاں پہلی بیٹی کی پیدائش قبل از وقت ہوئی تھی، اس وقت میری عمر 24 برس تھی، جب اسپتال انتظامیہ نے مجھے میری مردہ بیٹی کفن میں لپیٹ کردی تو مجھے ایسا لگا تھا کہ میں دنیا میں تنہا رہ گیا ہوں۔

سینئر اداکار نے آبدیدہ ہوتے ہوئے کہا کہ میں اپنی بیٹی کے انتقال پر ٹوٹ گیا تھا کیونکہ وہ میری پہلی اولاد تھی جو بچ نہیں سکی۔انہوں نے اپنے والدین کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے سارے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہوں، اسی وجہ سے والدین کے بہت قریب تھا۔محمود اسلم نے کہا کہ میں اپنے گھر کی بالائی منزل پر مقیم تھا جبکہ والدہ نچلی منزل پر رہتی تھیں، وہ میرے گھر آنے تک جاگتی رہتی تھیں اور مجھے دیکھنے کے بعد ہی سوتی تھیں۔

اداکار نے کہا کہ ایک رات میری والدہ کی طبیعت بگڑ گئی تھی تو میرے علاوہ، خاندان کے سب لوگ والدہ کے پاس آگئے تھے لیکن میری والدہ کی نظریں میرے انتظار میں دروازیں پر تھیں۔انہوں نے کہا کہ میں جیسے ہی والدہ کے کمرے میں داخل ہوا تو انہوں نے مجھے گلے سے لگایا اور اس وقت مجھے لگا کہ جیسے کسی نے میرا دل نکال دیا۔محمود اسلم نے والد کی محبت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میرے والد نے اپنی زندگی کا آخری وقت اسپتال کے بستر پر گزارا، میں روزانہ والد کے پاس جاکر آیت الکرسی پڑھ کر ان پر پھونکتا تھا۔اداکار نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ایک رات، میں آیت الکرسی پڑھنا بھول گیا تھا اور اسی رات میرے والد انتقال کرگئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…