کشمیر(نیوز ڈیسک) درد پورا میں 200 خواتین نصف بیواوں کی طرح زندگی گزار رہی ہیں۔نصف بیوائیں وہ خواتین ہیں جن کے شوہر کشمیر ی تنازعات کے دوران لا پتہ ہوئے اور ابھی تک مردہ قرار نہیںپائے۔ان نصف بیواوں کے علاوہ 100خواتین ایسی ہیںجن کے شوہر کسی متنازعہ میں ہلاک ہو گئے۔ نصف بیوائیں اس بے ےقینی اور گہرے دکھ سے رہ رہی ہیں کہ ان کے شوہروں کے ساتھ کیا ہوا۔ایسے لوگوں کے غائب ہونے میں عموما پولیس ےا سیکیورٹی فورسز کی کاروائیاں ہوتی ہیں۔مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ 20 سالوں میں لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد 4000 ہے جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے دوگنی ہے۔ دسمبر 26 , 2013 میں کشمیر کی ایک سول سوسائٹی تنظیم ”احساس“ نے پہل کی ، چھہ دینی علماءاکرام نے اعلان کیا کہ وہ نصف بیوہ جس کاشوہر 4 سال میں واپس نہیں آتا دوسری شادی کر سکتی ہے۔ مقامی لاپتہ شخص شمش الدین پارسل کی نصف بیوہ بیگم جان کا کہنا تھا کے اسکا شوہر 1998 میں شام کی نماز پڑھنے مسجد میں گیا اور آج تک لوٹ کے نہیں آیا۔اس نے کہا کے وہ دوسری شادی کے لیے بہت بوڑھی ہو گئی ہے۔مرکزی یونیورسٹی کشمیر کے عالم شیخ شوکت کا کہنا ہے کہ اگر کسی نصف بیوہ کی دوسری شادی کے بعد پہلا شوہر واپس آ جاتا ہے تو پہلی شادی مسترد ہو جائے گی۔بہت سے علمائ اکرام نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا۔سرینگر کے مفتی عبد الرشید جو دیوبندی سنی مسلمان جماعت سے تعلق رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی خاتون کا شوہر غائب ہوتا ہے تو وہ جج کی مدد لے۔اگر جج کچھ سال میں اسکے شوہر کو ڈھوندھنے میںناکام ہو جائے تو وہ دوسرا نکاح کر لے۔انہوں نے کہا کے اگر اسکا پہلا شوہر واپس آ جائے تو اسکا دوسرا نکاح مسترد ہو جائے گا۔البتہ حنفی سنی جماعت کا کہنا ہے کہ نصف بیوہ کے لیے اپنے شوہر کے انتظار کرنے کی مدت کم از کم 90 سال متعین ہونی چاہیے۔ ایک اور مقامی اسلامی مفکر مفتی قمر الدین کا کہنا ہے کہ نصف بیوہ کے لیے انتظار کرنے کی مدت 4 سال اور 10 دن ہونی چاہیے اور اس مدت سے بہت سے اسلامی مفکر متفق ہیں۔مگر شوہر کے لوٹ آنے کی صورت میں پہلی یا دوسری شادی مسترد ہو گی اسکا جواب کسی بھی مفتی کے پاس نہیں۔ کچھ نصف بیواں کا کہنا تھا کہ وہ پچھلی چند دہائیوں سے اپنے شوہروں کا انتظار کر رہی ہیں،انکے لیے سب کچھ نئے سرے سے شروع کرنا مشکل ہے۔غائب ہونے والوں میں چونکہ زےادہ ترافراد کا تعلق دیہات سے ہے تو انکی نصف بیوائیں غربت کی زندگی گزار رہی ہیں اورمذہبی و سماجی دباو کی وجہ سے شادی نہیں کر تی۔نصف بیواوں کی زندگی میںسب سے بڑا اور اہم مسئلہ جائیداد کی تقسیم ہے۔اقتصادی امداد جیسے کہ بنک اکاونٹ شوہر کی جائیداد میں حصے کے لیے شوہر کی موت کا سرٹیفکیٹ درکار ہوتا ہے جو ان نصف بیواوں کے پاس نہیں ہوتا اس لیے وہ اپنے سسرال یا اپنے میکے میں رہنے کے لیے مجبور ہوتی ہیں۔اسلامی قانون کے مطابق ایک بیوہ اگر بچے ہیں کو اپنے شوہر کی جائیداد سے آٹھویں حصے کی جبکہ بچے نا ہونے کی صورت چوتھے حصے کی مالکن ہوتی ہے
درد پورا کی درد ناک داستان ، ”نصف بیوائیں“ کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
ایران نے جنگ کا نیا مرحلہ شروع کردیا
-
ترک خواتین نے مسجد فاتح میں دوپٹے مردوں پر پھینک دیئے،ویڈیووائرل
-
امریکی نیشنل انٹیلی جنس کی تھریٹ رپورٹ میں پاکستان، بھارت اور افغانستان کا خصوصی ذکر
-
عید الفطر کیلیے گیس کی فراہمی کا شیڈول جاری
-
ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کی بڑی مشکل آسان ہوگئی
-
خلیجی ممالک پر حملے، شہزادہ فیصل نے بڑا اعلان کر دیا
-
سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری
-
امریکی ڈائریکٹر قومی انٹیلی جنس کا پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق بیان مسترد
-
حکومت نے بجلی کے بلوں میں اضافی فکسڈ چارجز شامل کر دیئے
-
راولپنڈی،شادی شدہ خاتون سے زیادتی کرنے والے 4 افراد گرفتار
-
گیس تنصیبات پر حملہ، قطر کا بڑا سفارتی فیصلہ
-
لاہور، شہری نے فائرنگ کرکے بیوی، بیٹی اور بیٹے کو ہلاک کرکے خودکشی کرلی
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم رکھیں گے تو لوگ اپنا لائف اسٹائل تبدیل نہیں کریں گے، وزیر پیٹرولیم



















































