ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر کی افواج کی طرح ہماری فوج بھی اپنی آئینی حدود میں رہے، محمود اچکزئی

datetime 21  مئی‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے صدر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ جب ہم آئین کی بات کرتے ہیں تو بعض ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے خلاف بات کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں جس طرح دنیا بھر کی افواج اپنی آئینی حدود میں کام کرتی ہیں آپ بھی اسی حدود میں کام کریں۔تقریب سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان دن بدن ترقی کے بجائے تنزلی کی جانب بڑھ رہا ہے اگر ہم نے ملک کو تباہ کرنے والوں کے ہاتھ نہ روکے تو یہ ملک نہیں رہے گا، یہ ملک اس لیے نہیں بنایا تھا کہ ہم لوگوں کی ماں بہن کو گالیاں دیں، دنیا جہان کی ہر نعمت اس ملک میں ہے، سورہ رحمن میں اللہ نے جو نعمتیں بیان کی وہ پاکستان میں موجود ہیں مگر لیکن سوال یہ ہے کہ اس سب کے بعد بھی ہم بھوکے کیوں مر رہے ہیں؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے آئین کی پاس داری نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم آئین کی بات کرتے ہیں تو بعض ادارے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کے خلاف بات کر رہے ہیں ہم خود کہتے ہیں کہ ملک جاسوسی اداروں کے بغیر نہیں چل سکتا ہم چاہتے ہیں ہماری افواج دنیا کی بہترین افواج میں سے ہو لیکن ہم چاہتے ہیں کہ افواج اپنے دائرے میں رہیں، جس طرح پوری دنیا کی افواج اپنی آئینی حدود میں کام کرتی ہیں آپ بھی اسی حدود میں کام کریں۔انہوں ںے کہا کہ میں سخت ترین بات بھی آرام سے کرنے کا قائل ہوں، نواز شریف کہتے تھے ووٹ کو عزت دو، ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دی جائے، تمام انسان برابر ہیں ہمیں امیر اور غریب میں تفریق ختم کرنی ہوگی، منتخب پارلیمان کو طاقت کا سر چشمہ بنانا ہوگا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ آج ہماری حالت بہت خراب ہے عدلیہ دبا میں ہے، آج حالات ایسے ہیں کہ اگر پیسے والا دعوی کردے کہ فلاں کی بیوی میری بیوی ہے تو پاکستانی عدالت میں اس کے حق میں فیصلہ آجائے گا، لوگ اس کے حق میں جھوٹی گواہی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک مارشل لا، دوسرا مارشل لا اور پھر تیسرا مارشل لا، اب اگر آئین کو روندا گیا تو ہم سب کو یہ اعلان کرنا چاہیے کہ ہم سب سڑکوں پر ہوں گے، ہم ہر صورت میں آئین پاکستان کا تحفظ یقینی بنائیں گے۔انہوںنے کہاکہ سینٹ الیکشن میں ایک ایک ووٹ 60 سے 70 کروڑ روپے میں فروخت ہوا، یہاں ایک ووٹ خریدنے کے لیے 70 کروڑ دیے جاتے ہیں اور ایک پریس کلب کو چلانے کے لیے سالانہ 50 لاکھ روپے دیے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب حقیقی معنوں میں خواتین کو ان کے حقوق دینا ہوں گے، قرآن مجید کے مطابق خواتین کو ان کے حقوق دیے جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…