پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب میں غیرملکیوں کی ریٹائرمنٹ کےلئے نیاقانون لانے کافیصلہ

datetime 5  اکتوبر‬‮  2015 |
epa03966041 A photo made available on 26 November 2013 shows a Saudi police officer standing next to foreign workers, who had been illegally staying in the Kingdom, before being deported, in Riyadh, Saudi Arabia, 20 November 2013. Media reports on 13 November 2013 state Saudi authorities have detained more than 20,000 foreign migrant workers in the holy city of Mecca since a nationwide clampdown started. Saudi authorities began their sweep after the end of a seven-month amnesty for foreign migrants whose work permits had expired or who were not working for their official sponsors. EPA/STR

کراچی(نیوزڈیسک)سعودی عرب میں غیرملکیوں کی ریٹائرمنٹ کےلئے نیاقانون لانے کافیصلہ .سعودی عرب میں غیر ملکیوں کو 60 سال کی عمر میں لازمی ریٹائر کیے جانے پر غور شروع ہوگیا ہے۔ مقامی افراد تو پہلے ہی 60 سال کی عمر کو پہنچنے پر ریٹائرڈ کردیئے جاتے ہیں جبکہ اب غیر ملکیوں پر بھی اس قانون کے اطلاق پر غور کیا جارہا ہے، ماسوائے ان افراد کے جو اپنے اپنے شعبوں میں انتہائی ماہر خیال کئے جاتے ہوں۔ موقر سعودی اخبار ”المدینہ“ کے مطابق سعودی عرب میں رہنے والے غیر ملکیوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر کے بارے میں تجاویز سعودی وزارت محنت نے تیار کی ہیں۔ خلیجی ممالک میں سب سے زیادہ آبادی اور دنیا میں تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب میں کام کرنے والے غیر ملکیوں پرعمر کی فی الوقت کوئی قید نہیں لیکن سعودی شہری 60 سال کی عمر میں ریٹائر کر دئیے جاتے ہیں۔ جدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ہیومن ریسورس کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر سمیر حسن نے اخبار کو بتایا کہ نئے قانون میں ریٹائرڈ ہونے والے غیر ملکی ورکر کی جگہ سعودی شہریوں کو نوکری دینے کی شق بھی شامل کی جانی چاہیے۔ گو کہ اخبار ی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کہ ریٹائر منٹ کی عمر سے متعلق قانون کب نافذ ہو گا تاہم ”عربین بزنس“ نامی ایک ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ اس قانون سے پرائیوٹ سیکٹر میں کام کرنے والے 60 سال سے زائد عمر کے تقریباً پانچ لاکھ غیر سعودی باشندے متاثر ہوں گے۔ سعودی وزارت محنت کے مطابق سعودی شہریوں کی 12 فیصد آبادی بے روزگار ہے اور نجی شعبے میں ہر 10 میں سے نو افراد غیر ملکی ہیں۔ سعودی حکومت نجی شعبے میں سعودی شہریوں کی تعداد بڑھانے کے لئے متعدد اقدامات کر رہی ہے جن میں کمپنیوں کو غیر ملکی ورکرز کا کوٹہ مقرر کرنے کا بھی پابند بنایاگیا ہے۔ نئے قوانین کے مطابق اگر کوئی کمپنی مقررہ کوٹے سے زیادہ غیر ملکی ورکر زکو کام دے گی تو اس کے خلاف ضابطے کی کارروائی کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…