بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن پنجاب کاعمران خان کیخلاف اعلامیہ جاری،عمران خان کو ان کی حیثیت بتادی

datetime 5  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک)ممبر الیکشن کمیشن پنجاب جسٹس (ر) ریاض کیانی نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لگائے الزامات کے جواب میں تفصیلی اعلامیہ جاری کر دیا جو اُنہوں نے اپنے الفاظ میں قلمبند کروایا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کا الیکشن کمشن، مجھے اور ادارے سے جُڑے دوسرے افسران کو متواتر نشانہ بنانا اور 2014ءکے انتخابات میں دھاندلی کا مرتکب ہونے کا الزام لگانا ایک سفید جھوٹ سے زیادہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔ میں اِس امر میں اوّل تو اُن لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کروں گا جنہوں نے عمران خان کو منتخب کر کے قومی اسمبلی کا ممبر بنایا۔ مجھ پر ایسے گھناﺅنے الزامات لگا کر کہ میں شریف برادران کا قانونی مشیر رہا اور اسلئے انتخابات میں میں نے اُن کی طرفداری کی، عمران خان نے یہ ثابت کردیاکہ بے شک وہ کرکٹ کی دُنیا میں بہت بلند مقام رکھتے ہیں لیکن سیاست میں اُن کی حیثیت بہت چھوٹی ہے۔ اُن کے اس الزام سے مجھے بہت شدید صدمہ پہنچا اور حیرانگی بھی ہوئی۔مزید کہا گیا کہ میں نے 1963ءمیں قانون کی پریکٹس شروع کی اور تب سے لیکر 1998ءمیں میری بنچ پر تقرری تک ، میں چیلنج کرتا ہوںکہ اِس دور کے کسی بھی ایڈووکیٹ سے میرا احتساب کرائیے۔ آپکو اِن اِلزامات کا جواب نفی میں ہی ملے گا۔ میں کبھی بھی شریف برادران کا قانونی مشیر نہیں رہا، نہ کسی بھی کورٹ میں کبھی اُن کے مقدمات لڑے نہ ہی کبھی کوئی قانونی رائے دی۔ کیپٹن یہ کیسا سفاک جھوٹ ہے، اِس بات کا خیال رکھئےے کہ دوسروں کے بے داغ اور سالہاسال کی محنت سے کمائے ہوئے نام اور کردار کو اس طرح خراب مت کرئیے۔ میں اپنے نام پر ایسی فضولیات برداشت نہیںکروںگا ۔ میں اپنے ضمیر پر پورا قابو رکھتا ہوں۔ جو کہ آپ کی سمجھ بوجھ سے باہر ہے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ صوبائی الیکشن کمشنر سندھ ایس ایم طارق قادری نے 11-08-2014کی رات 09:50پر تمام میڈیا کے چینلز پر اِس بات کی کھلی تردید کی ہے کہ وہ جناب پرویز ملک کو جانتے ہیں اور نہ ہی اُنہیں میری طرف سے کوئی ایسی ہدایات جاری کی گئیںکہ پرویز ملک کے احکامات پر عمل کیا جائے۔ یہ بیانات آپکے بے مقصد اور بے بنیاد اِلزامات کومٹی میں ملانے کیلئے کافی ہیں۔ آپ کو لفظ”شرمناک” اپنی تقاریر میں استعمال کرنے کا بہت شوق ہے۔ آج ذرا سوچئیے کہ یہ لفظ دراصل کس کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ہاں۔ مجھے چئیرمین ہائی رائز بلڈنگ تعینات کیا گیا تھا۔ یہ تعیناتی سپریم کورٹ کے ڈویثر ن بنچ نے بار کے ساتھ مشاورت کے بعد مئی2007میں کی اور میں اس عہدے پر مئی 2009تک کام کرتا رہا اور پھر استعفیٰ دیا کیونکہ میری تعیناتی بطور وفاقی سیکرٹری قانون ہوگئی۔ شائد اِس سے آپ کی تشفی ہو کہ میری یہ تعیناتی شریف برادران کے مرہون منت نہیں ہوئی تھی کیونکہ وہ تو اُس وقت ملک بدر کر دئیے گئے تھے اور پاکستان میں موجود ہی نہ تھے۔ مجھ سے نفرت کی جاتی ہے کیونکہ الیکشن کمشن میں زیادہ تر فیصلے میرے ہاتھوں قلمبند ہوئے ہیں۔ جیتے ہوئے لوگ میری تعریف کرتے ہیں۔ مگر ہارے ہوئے تنقید کے سوا کچھ نہیں کر پاتے۔ آپ اپنی سیاست شوق سے کیجئے لیکن میں خبردار کرتا ہوں کہ کوئی بھی میرے ضمیر پر حکم نہ چلائے ۔اﷲرب العزت کبھی بھی آپ کو وہ عظیم مقام عطا نہ کرے گا جس کی آپ اِسوقت شدید خواہش کر رہے ہیں، جب تک کہ آپ جھوٹ کا سہارا لیتے رہیںگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…