جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

شہد کی مکھیاں زیرآب 7 دن تک زندہ رہ سکتی ہیں، تحقیق میں حیرت انگیز انکشاف

datetime 22  اپریل‬‮  2024 |

ٹورنٹو(این این آئی)سائنسدانوں نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے کہ شہد کی مکھیاں پانی کے اندر ایک ہفتے تک زندہ رہ سکتی ہیں۔یہ دریافت سائنسدانوں نے اس وقت کی جب انہوں نے حادثاتی طورپر شہد کی مکھیوں کو ڈبو دیا۔2022 میں کینیڈا کی Guelph یونیورسٹی کے ماہرین ایک تحقیق پر کام کر رہے تھے جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کیڑے مار ادویات سے زیرزمین خوابیدہ شہد کی مکھیوں کی ملکہ پر کیا اثرات مرتب کرتے ہیں۔

یہ تحقیق شہد کے مکھیوں کی ایک قسم بمبل بی پر کی جا رہی تھی اور اس دوران فریج میں خرابی سے زیرزمین جگہ پانی میں ڈوب گئی۔پانی کے اندر شہد کی مکھیاں موجود تھیں اور سئانسدان یہ جان کر دنگ رہ گئے کہ یہ غلطی جان لیوا ثابت نہیں ہوئی بلکہ متعدد مکھیاں زندہ بچ گئیں۔اس کے بعد انہوں نے خاص طور پر اس بارے میں تحقیق کی تاکہ معلوم ہو سکے کہ زیرآب شہد کی مکھیاں بچ سکتی ہیں یا نہیں۔اس مقصد کے لیے 147 مکھیوں کو استعمال کیا گیا اور انہیں مٹی سے بھری شیشے کی بوتلوں میں ڈال دیا گیا۔

بوتلوں پر ہوا کی گزرگاہ کے لیے سوراخ کیے گئے تھے اور بوتلوں کو تاریک اور ٹھندی جگہ پر رکھ کر زیرزمین ماحول کی نقل کی گئی۔17 مکھیوں کو خشک بوتلوں میں رکھا گیا جبکہ ایک گروپ کی بوتلوں میں 20 ملی لیٹر پانی میں تیرنے دیا گیا جبکہ تیسرے گروپ کی مکھیوں کو پانی میں ڈبو دیا گیا۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پانی کے اندر موجود 90 فیصد مکھیاں زندہ بچ گئیں،ان میں 17 ایسی مکھیاں بھی تھیں جن کو پانی کے اندر 7 دنوں تک رکھا گیا۔ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ مکھیاں زیرآب کیسے بچ جاتی ہیں مگر محققین کے خیال میں ایسا ممکنہ طور پر مکھیوں کے سانس لینے کے طریقے سے ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…