جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بیوٹی پارلرز اور شادی ہالز پر فکسڈ ٹیکس لگانے کا فیصلہ

datetime 20  اپریل‬‮  2024 |

پشاور(این این آئی)خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال سے صوبے میں شادی ہالز اور بیوٹی پارلرز پر فکسڈ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کرلیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کے پی حکومت نے ہالز اور بیوٹی پارلرز کو ان کے سائز اور کاروبار کے حجم کے مطابق مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیے جانے کا فیصلہ کیا ہے جن پر سیلز ٹیکس آن سروسز کے مختلف فکسڈ ریٹس لاگو کیے جائیں گے اور مالکان اپنا ماہانہ ٹیکس کیپرا کے پاس جمع کرائیں گے۔

خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ نے بتایاکہ صوبے کے سیلز ٹیکس آن سروسز کے لیے ریسٹورینٹس، ہوٹلوں پر کریڈٹ کارڈ سے ادائیگی کرنے والوں کو 15 کی بجائے 13 فیصد ٹیکس میں لایا جائے گا۔خیبر پختونخوا ریونیو اتھارٹی کی ڈائریکٹر جنرل فوزیہ اقبال نے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے محکمہ خزانہ مزمل اسلم کے ساتھ ملاقات کی اور ان کو کیپرا کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ شادی ہالز اور بیوٹی پارلرز مالکان کو سیلز ٹیکس آن سروسز کے فکس ریٹس اور پرسنٹیج ریٹس میں کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے گا جس کے بعد وہ اپنے منتخب کردہ نظام کے مطابق اپنا ماہانہ ٹیکس کیپرا کے ساتھ جمع کرائیں گے۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس چوری میں ملوث کاروباری شخص یا ادارے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، ان اقدامات کے لیے کے پی سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2022 میں ترامیم کی جائیں گی۔مزمل اسلم نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد صوبائی حکومت، ٹیکس دہندگان اور تاجر برادری میں اعتماد پیدا کرنا ہے جب کہ تمام فیصلوں پر تاجر تنظیموں و چیمبر آف کامرس کے نمائندوں کی مشاورت کے بعد ہی عمل درا?مد کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…