جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

جیل میں 7 ہزار قیدیوں اور عمران کیلئے الگ الگ سی سی ٹی وی سسٹم نصب ہے، مزید تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 8  اپریل‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کو اڈیالا جیل میں میسر سہولتوں کے بارے میں لاہور ہائیکورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں۔رپورٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جس سکیورٹی وارڈ میں رکھا گیا ہے وہاں کم از کم 35 افراد رہ سکتے ہیں، بانی پی ٹی آئی کے لیے کل 7 سیل مختص ہیں جن میں سے 5 چہل قدمی کیلیے ہیں جبکہ باقی2 سیل بانی پی ٹی آئی کے استعمال میں ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ عمران خان کے سیل تک رسائی بہت محدود ہے، کوئی بھی شخص بغیر اجازت وہاں نہیں پہنچ سکتا، بانی پی ٹی آئی کے وارڈ کی حفاظت کے لیے پیشہ ور تربیت یافتہ افراد مامور ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اڈیالا جیل میں ہر 10 قیدیوں پر ایک اہلکار تعینات ہے تاہم عمران خان کے لیے 15 اہلکار تعینات ہیں جن میں سے 2 سکیورٹی افسران ہیں، 3 اہلکار بانی پی ٹی آئی کی سکیورٹی کے لیے لگائے گیے سی سی ٹی وی کیمروں پر مامور ہیں، جیل میں 7 ہزار قیدیوں کے لیے الگ اور بانی پی ٹی آئی کے لییالگ سی سی ٹی وی کیمرہ سسٹم نصب ہے، ان کی سکیورٹی پر ماہانہ 12 لاکھ روپے کا خرچ آتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کے کھانے کے لیے خصوصی قواعد و ضوابط تشکیل دیے گئے ہیں، ان کو صحت افزا کھانا مہیا کیا جاتا ہے جو ایک خصوصی کچن میں اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ جیل کی نگرانی میں تیار ہوتا ہے، کھانا فراہم کرنے سے قبل ایک میڈیکل افسر یا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل اس کا معائنہ کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جیل کے میڈیکل افسر کے علاوہ، راولپنڈی کے ایک ہسپتال کے 6 میڈیکل افسران بانی پی ٹی آئی کے علاج معالجے کیلئے تعینات ہیں ، راولپنڈی کے ایک دوسرے ہسپتال کے اسپیشلسٹ کی ٹیم جیل کا ہفتہ وار دورہ کرتی ہے جو ضرورت پڑنے پر بانی پی ٹی آئی کا چیک اَپ کرتی ہے، بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ورزش کے لیے مشین اور دیگر اشیابھی فراہم کی گئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے آنے والوں کے لیے قواعد و ضوابط بنائے گئے ہیں، ان کے جیل ٹرائل کے دوران ایک جامع سکیورٹی پلان پر عملدرآمد کیا جاتا ہے، اڈیالا جیل کی حفاظت کے لیے جیل پولیس، رینجرز، ضلعی پولیس فرائض ادا کررہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جیل اور اردگرد کے علاقے کلیئر رکھنے کے لیے سرچ آپریشن کیے جاتے ہیں، جیل میں بانی پی ٹی آئی اور تمام قیدیوں کی سکیورٹی کے لیے فرضی مشقیں بھی کی گئیں جبکہ جیل کی جانب جانے والے روڈ پر پولیس کی اضافی نفری تعینات ہے، رینجرز اور ایلیٹ فورس کے اہلکار بھی گشت کرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…