ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

کمپیوٹر کے بعد اب انسانوں کے دل بھی ہیک ہونے لگے

datetime 30  ستمبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) دل کے مریضوں کے جسم میں ایک آلہ نصب کیا جاتا ہے جسے ”پیس میکر“ کہتے ہیں۔ یہ آلہ دل کی دھڑکن کو مربوط رکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ دنیا میں اس وقت کروڑوں کی تعداد میں ایسے مریض ہیں جن کے جسم میں یہ آلہ نصب ہے لیکن اب شاید ان کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئیں ہیں کیونکہ اب یہ آلہ بھی ہیکرز کی زد میں ہے۔
معروف امریکی ہیکر بارنابی جیک جس نے اے ٹی ایم مشینوں کو ہیک کرکے انہیں پیسے اگلنے پر مجبور کر دیا تھا،اس نے ایک سال قبل ”پیس میکرز“ کو بھی ہیک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایسے شخص کو 30فٹ کے فاصلے سے ہلاک کر سکتا ہے جس کے سینے میں پیس میکر نصب کیا گیا ہو۔ بارنابی جیک رواں سال اگست کے مہینے میں ہیکنگ کے موضوع پر ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں اس حوالے سے ایک ہائی پروفائل پریزنٹیشن بھی دینے والا تھا لیکن کانفرنس سے کچھ ہی دن قبل وہ اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پایا گیا۔جیک ”وائٹ ہیٹ“ ہیکر تھا جو مختلف الیکٹرانک اشیائ میں خامیوں کی نشاندہی کرتا تھا جو ان کے ہیک ہونے کا سبب بنتی تھیں۔
جیک نے پیس میکرز کو جس طرح ہیک کرنے کا دعویٰ کیا اور اس میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی تھی ان کو لے کر جہاں ”بلیک ہیٹ“ ہیکرز پیس میکرز کو ہیک کرنے کے درپے ہو گئے وہیں پیس میکرز بنانے والی کمپنی نے بھی اسے ہیکرزسے محفوظ بنانے کے لیے اقدامات شروع کر دیئے ہیں، اور پیس میکرز کو انٹرنیٹ سے منسلک کرنے کا اقدام اٹھایا جا چکا ہے۔ اس اقدام کے بعد پیس میکرز کو مریض کے سینے میں ہوتے ہوئے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکے گا اور یہ کام ہسپتالوں کا تکنیکی عملہ آپریشن تھیٹر میں مریض سے چند میٹر فاصلے پر رہتے ہوئے سرانجام دے گا۔دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ پیس میکرز کو انٹرنیٹ سے منسلک کرکے ہیکنگ سے بچانے کا دعویٰ بیماری کا علاج بیماری سے کرنے کے مترادف ہے اور اس اقدام سے پیس میکرز کو ہیک کرنا اور بھی آسان ہو جائے گا اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں کروڑوں لوگوں کی زندگیاں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر آ جائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیلتھ کیئر آرگنائزیشنز اور میڈیکل ڈیوائس ریگولیٹری باڈیز کو ان مریضوں کو ہیکنگ کے خطرے سے بچانے کے لیے کوئی اور مناسب بندوبست کرنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…