لندن (نیوزڈیسک)افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ پاکستان کو ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ایک ہی موقف اپنانا چاہیے ¾افغانستان اور پاکستان کے تعلقات برادرانہ نہیں دو ریاستوں کے تعلقات ہیں جب تک امن کا حصول نہیں ہوتا تو دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بھی رہیں گی اور ان کی مدد کا نظام بھی موجود رہے گا ¾طالبان افغان ہونے کا انتخاب کریں گے تو امن آئےگا ایسا نہیں تو طالبان تنہا رہ جائینگے ۔اقتدار سنبھالنے کا ایک سال پورا ہونے پر بی بی سی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں انہوںنے کہاکہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات برادرانہ نہیں بلکہ دو ریاستوں کے تعلقات ہیں۔اشرف غنی نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک ہی موقف اپنائے اس سے قطع نظر کہ دہشت گردی میں کونسا گروہ ملوث ہے۔ وہ ایسا تو نہیں کر سکتے کہ اپنے ملک میں تو دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپنائیں لیکن جو افغانستان کو برباد کر رہے ہیں ان کے لیے الگ موقف ہو۔معاشی ترقی اور امن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں افغان صدر نے کہا کہ میری ڈکشنری میں دو ریاستوں کے درمیان تعلقات میں مایوسی کا لفظ نہیں ، ہمارے پاکستان کے ساتھ تعلقات دو نوجوانوں بھائیوں کے باہمی تعلق جیسے نہیں ہیں بلکہ یہ دو ریاستوں کے تعلقات ہیں۔افغان صدر نے کہاکہ پاکستان دہشت گردی مسئلے کے سلسلے میں ہمارے جواز کو تسلیم کر چکا ہے جو یہ ہے کہ وہ غیر اعلانیہ طور پر 13 برس سے زیادہ عرصے تک ہماری ریاست کے خلاف جارحانہ کارروائیوں کی حالت میں رہا۔اشرف غنی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کو بنیادی امن قرار دیا اور کہا کہ جب تک امن کا حصول نہیں ہوتا تو دہشت گردوں کی پناہ گاہیں بھی رہیں گی اور ان کی مدد کا نظام بھی موجود رہے گا۔افغان صدر نے طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کا تذکرہ ایک ایسے وقت کیا ہے جب پیر کوطالبان نے شمالی افغانستان کے شہر قندوز پر حملہ کیا ہے جبکہ دولتِ اسلامیہ کے وفادار شدت پسندوں نے اتوار کومشرقی صوبے ننگر ہار میں سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا ہے۔اس سوال پر کہ کیا وہ پاکستان کو عالمی برادری کا ذمہ دار رکن سمجھتے ہیں انہوںنے کہاکہ ہمارے موقف کو خطے اور عالمی سطح پر قبولیت ملی ہے اور دوسرے یہ انتخاب کرنے کی بات نہیں۔ دہشت گردی پاکستان کے لیے بھی اتنا بڑا خطرہ ہے جتنا کہ افغانستان کے لیے۔ پشاور کے بچے اور ان کے فوجی ان کےلئے یاددہانی ہے کہ دہشت گردی کے معاملے میں اچھی یا بری کی تمیز نہیں کی جا سکتی۔افغان صدر نے طالبان کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اب ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتخاب کریں کہ آیا وہ افغان ہیں یا عالمی شدت پسندی اور علاقائی تسط کے آلہ کار ہیں۔اگر وہ افغان ہونے کا انتخاب کرتے ہیں اور مجھے بہت زیادہ امید ہے کہ وہ افغان ہونے کا ہی انتخاب کریں گے، اور پھر یہاں امن آئے گا۔ اور ایسا نہیں ہے تو وہ تنہا رہ جائیں گے کیونکہ ان کی حمایت کوئی نہیں کرے گا۔ انھیں سمجھنے کی ضرورت ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر بچوں اور معصوم لوگوں کو قتل کرنے پر وہ کس قدر غیر مقبول ہو چکے ہیں۔ معاشرہ جنگ سے تنگ آ چکا ہے اور یہ امن چاہتا ہے۔‘افغان تارکین وطن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان عام طور پر عدم تحفظ اور ابتری کا شکار معیشت جیسی وجوہات کی بنا پر ملک چھوڑتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ افغانستان کو 2002 سے ملنے والی مالی مدد کے برعکس سابق صدر اور ان کی حکومت کے لیے ملازمتیں پیدا کرنا ترجیح نہیں رہا ہے اور ایسی معیشت ورثے میں ملی جو شدید مالی بحران سے دوچار تھی۔اشرف غنی کے مطابق افغان تارکین وطن کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ یورپ کے وہ غلط تصورات بھی ہیں کہ وہاں کی گلیاں خوشحالی کی نوید ہیں۔یورپ اور شمالی امریکہ میں دس لاکھ افغان شہری سکونت اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان میں سے ہزاروں کی رشتہ داریاں ہیں اوریورپ کی یہ شبیہ بھی ہے کہ وہاں کی گلیاں سونے سے مزین ہیں اور یہ پرکشش لگتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں شرح غربت 36 فیصد ہے۔ بہت زیادہ بے روزگاری اور پس پردہ غربت بھی ہے۔افغان صدر نے کہا ہے کہ اقتصادی ترقی کے لیے سکیورٹی بنیادی چیز ہے اور امن اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتا جب تک طالبان کی پناہ گاہیں موجود ہیں۔
افغان صدراشرف غنی کے پاکستان مخالف انٹرویونے نیامسئلہ کھڑاکردیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
اسکول ہفتے میں 6 روز کھلیں گے ،نوٹیفکیشن جاری
-
ہونڈا CD 70 خریدنے والوں کے لیے اہم خبر
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
متحدہ عرب امارات نے پاکستانیوں کو ویزے جاری کرنا شروع کردیے
-
پی ٹی آئی رہنما کے قتل میں بڑی پیشرفت، قتل کے ماسٹر مائنڈ کا نام اور وجہ سامنے آگئی
-
واٹس ایپ میں ایک نئی دلچسپ اپ ڈیٹ کر دی گئی
-
ایران توانائی کی تنصیبات پر حملوں کی صورت میں کس کس ملک کو نشانہ بناسکتا ہے؟ نام سامنے آگئے
-
بینک سے سونا غائب کرنے اور 5 کروڑ کے فراڈ کے الزام میں بینک کیشئر سمیت 2 افراد گرفتار
-
اگر مزید جہازنہیں بھیجاگیا تو اسرائیل کے بجائے امریکی دفاع کے انتخاب پر مجبور ہوں گے، امریکی جنرل
-
اس سسٹم میں تم نے 30 سال کا سفر ساڑھے 3 سال میں طے کیا، اب تمہیں آکر پتہ چلا سسٹم بالکل خراب ہے: ران...



















































